حبیب جالب

Habib Jalib

Modern
24 مارچ 1928-23 مارچ 1993 ہوشیارپور / لاہور, پاکستان
حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے بعد کراچی اور پھر لاہور میں سکونت اختیار کی۔ حبیب جالب نے مارشل لا، فوجی آمریتوں، سیاسی جبر، سماجی ناانصافی اور طبقاتی لوٹ مار کے خلاف اپنی جرات مندانہ شاعری اور ترنم سے بھرپور عوامی انداز سے پورے ملک میں عوامی بیداری کی آگ بھڑکا دی۔ ان کی انقلابی نظم 'دستور' (میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا) اور 'ظلمت کو ضیا' برصغیر کی مزاحمتی شاعری کے لازوال شاہکار ہیں۔ آپ کے مجموعوں میں 'برگِ آوارہ' (1957ء)، 'سرِ مقتل' (1968ء)، 'عہدِ ستم' (1975ء)، 'ذکر بہتے لہو کا'، اور 'گوشے میں قفس کے' شامل ہیں۔ حکومتِ پاکستان نے 2009ء میں بعد از مرگ آپ کو سب سے بڑے سول اعزاز 'نشانِ امتیاز' سے نوازا۔
پردیس کی تنہائی میں عید آئی ہے اپنوں کی دوری کا پیام لائی ہے
Pardes ki tanhai mein eid aayi hai Apnon ki doori ka payaam laayi hai
تفصیل دیکھیں »
کہتے ہیں کہ وطن کو خطرہ ہے جب بھی ان کے راج پہ آنچ آئے
Kehte Hain Ke Watan Ko Khatra Hai Jab Bhi Un Ke Raaj Pe Aanch Aaye
تفصیل دیکھیں »
اے چاند یہاں نہ نکلا کر، یہ بستی ہے غریبوں کی یہاں بھوک اگی ہے چہروں پر، یہاں تیرگی ہی اچھی ہے
Aye Chand Yahan Na Nikla Kar, Yeh Basti Hai Ghareebon Ki Yahan Bhook Ugi Hai Chehron Par, Yahan Teeragi Hi Achhi Hai
تفصیل دیکھیں »
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا دیوار کو در، پتھر کو گہر، کانٹے کو ثمر کیا لکھنا
Zulmat Ko Ziya, Sar-Sar Ko Saba, Bande Ko Khuda Kya Likhna Deewar Ko Dar, Patthar Ko Gohar, Kaante Ko Samar Kya Likhna
تفصیل دیکھیں »
ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا!
Aise Dastoor Ko, Subh-e-Be-Noor Ko Main Nahin Manta, Main Nahin Manta!
تفصیل دیکھیں »
یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہوا کے انہیں کیا دوش دیتے ہو سزا کے
Yeh Munsif Bhi To Qaidi Hain Hawa Ke Unhein Kya Dosh Dete Ho Saza Ke
تفصیل دیکھیں »
ظلم رہے اور امن بھی ہو کیا ممکن ہے تم ہی کہو
Zulm Rahe Aur Aman Bhi Ho Kya Mumkin Hai Tum Hi Kaho
تفصیل دیکھیں »
میں بھی خائف نہیں تختۂ دار سے میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
Main Bhi Khaif Nahin Takhta-e-Daar Se Main Bhi Mansoor Hoon Keh Do Aghyar Se
تفصیل دیکھیں »
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
Tum Se Pehle Woh Jo Ik Shakhs Yahan Takht-Nasheen Tha Us Ko Bhi Apne Khuda Hone Pe Itna Hi Yaqeen Tha
تفصیل دیکھیں »