🌲 پی ٹی ڈی سی (PTDC) و محکمہ آثارِ قدیمہ باضابطہ ڈوزیئر: پاکستان سیاحت، قدرتی عجائبات و یونیسکو ورثہ

پاکستان سیاحت، قدرتی عجائبات و یونیسکو عالمی ورثہ: شمالی وادیاں، تاریخی قلعے اور ۵,۰۰۰ سالہ قدیم تہذیبوں کا قومی انسائیکلوپیڈیا

وادیٔ ہنزہ، اسکردو، سوات، موہنجوداڑو، ٹیکسلا، تخت بھائی اور قلعہ دراوڑ کا جامع معائنہ، کے ٹو اور قراقرم کے گلیشیئرز، سفری روٹس، فاصلے، اور پاکستان کے شاہکار سیاحتی مقامات کا مستند تصویری احاطہ۔

6 Sites یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ (UNESCO World Heritage)
8,611 M کے ٹو (K2) — دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی
7,253 گلیشیئرز — قطبین کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ
5,000+ Yrs قدیم ترین موہنجوداڑو، ہڑپہ و ٹیکسلا کا تسلسل

📜 ایڈیٹوریل مقالہ: پاکستان — قدرت کے سحر انگیز عجائبات اور ۵,۰۰۰ سالہ تاریخ کا سنگم

شمال کے فلک بوس برفانی گلیشیئرز سے لے کر مکران کے سنہری ساحلوں تک سیاحتی صلاحیت کا جائزہ

پاکستان قدرت کی فیاضیوں کا وہ بے مثال اور نایاب مرقع ہے جس کی مثال دنیا کے چند ہی خطوں میں ملتی ہے۔ قطبین (شمالی و جنوبی قطب) کے بعد روئے زمین پر سب سے زیادہ گلیشیئرز (۷,۲۵۳ گلیشیئرز) کا مسکن ہونے کے ساتھ ساتھ، پاکستان دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلوں — ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش — کا باہمی سنگم ہے۔ دنیا کی چودہ ۸ ہزاری چوٹیوں میں سے پانچ عظیم ترین چوٹیاں بشمول کے ٹو (۸,۶۱۱ میٹر) اور نانگا پربت (۸,۱۲۶ میٹر) پاکستان کے شمالی خطے میں واقع ہیں، جو اسے دنیا بھر کے کوہ پیماؤں، ہائیکرز اور ایڈونچر کے متوالوں کے لیے حتمی خواب اور عالمی قبلہ بناتی ہیں۔

شمال میں وادیٔ ہنزہ کے فیروزی پانیوں اور خوبانی کے شگوفوں سے لے کر اسکردو کے بلند ترین سرد ریگستانوں اور وادیٔ سوات کے دیودار کے جنگلات تک، پاکستان کا قدرتی حسن ہر لمحہ بدلتے موسموں کے ساتھ ایک نیا روپ دھارتا ہے۔ سوات ایکسپریس وے، ہزارہ موٹروے، اور جگلوٹ تا اسکردو اسٹریٹجک روڈز کی جدید تعمیر نے ان دور افتادہ جنت نظیر وادیوں کو عام ملکی و غیر ملکی فیملیز کی پہنچ میں لا کھڑا کیا ہے۔

قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ، پاکستان دنیا کی قدیم ترین شہری تہذیبوں کا امین ہے۔ ۵,۰۰۰ سال قبل جب یورپ اور مغرب غاروں کے دور میں تھے، تب دریائے سندھ کے کنارے "موہنجوداڑو" اور "ہڑپہ" میں پختہ اینٹوں کے دو منزلہ مکانات، شطرنج نما کشادہ سڑکیں، نجی حمام، اور دنیا کا پہلا ڈھکا ہوا زیرِ زمین سیوریج کا نظام کام کر رہا تھا۔ یہ وہ تہذیب تھی جس نے دنیا کو ناپ تول کے پیمانے، سوتی کپڑے کی بنائی، اور بغیر جنگ و اسلحے کے ایک پرامن تجارتی ریاست کا تصور دیا۔

"پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں چند ہی گھنٹوں کے سفر میں انسان برف پوش گلیشیئرز سے اتر کر ۵,۰۰۰ سال پرانے کھنڈرات، صحرائی قلعوں اور سنہری ساحلوں تک پہنچ سکتا ہے۔"

بعد ازاں، پہلی صدی قبل مسیح سے لے کر پانچویں صدی عیسوی تک گندھارا تہذیب نے ٹیکسلا اور تخت بھائی کو بدھ مت کے علم و فن اور مجسمہ سازی کا عالمی دارالحکومت بنائے رکھا جہاں یونانی اور مشرقی فلسفے باہم مدغم ہوئے۔ ٹھٹھہ کے مکلی کا وسیع مدفن اور چولستان کے ریتلے ٹیلوں پر کھڑا قلعہ دراوڑ پاکستان کے اسلامی اور راجپوتانہ طرزِ تعمیر کا شاندار گواہ ہیں جن کا تحفظ اور تعارف اس پورٹل کا بنیادی مقصد ہے۔

🗺️ پاکستان سیاحت کے ۴ کلیدی ستون — تفصیلی ذیلی پورٹلز

اپنی پسند کے شعبے کا انتخاب کریں اور مستند کوائف، تصاویر، روٹس اور ہوٹل گائیڈ دیکھیں
🏔️ شمالی علاقہ جات و وادیاں

شمالی وادیاں و قدرتی حسن (Northern Valleys)

ہنزہ، اسکردو، سوات، فیری میڈوز، کمراٹ اور وادیٔ نیلم کے سحر انگیز نظارے، برف پوش جھیلیں، خوبانی کے باغات، روٹس اور ہوٹل رہنمائی۔

اہم وادیاں: ہنزہ، اسکردو، سوات، نیلم
بہترین موسم: مئی تا اکتوبر (بہار تا خزاں)
روٹ رسائی: KKH، موٹرویز اور جیٹ فلائٹس
وادیوں کا پورٹل کھولیں ←
🏛️ یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ

یونیسکو ورثہ و آثارِ قدیمہ (Archaeology)

موہنجوداڑو، ٹیکسلا گندھارا، تخت بھائی، مکلی قبرستان اور قلعہ روہتاس کے ۵,۰۰۰ سالہ تاریخی نوادرات اور عالمی ورثے کا تفصیلی معائنہ۔

کل یونیسکو سائٹس: ۶ باضابطہ سائٹس + ۲۶ مجوزہ
قدیم ترین سائٹ: موہنجوداڑو (2500 BCE)
مقام: سندھ، پنجاب و خیبر پختونخوا
عالمی ورثہ پورٹل کھولیں ←
🏰 شاہی قلعے و فنِ تعمیر

تاریخی قلعے و شاہکار عمارات (Historic Forts)

صحرائے چولستان کا قلعہ دراوڑ، ۳۲ کلومیٹر طویل دیوارِ سندھ قلعہ رانی کوٹ، ہنزہ کے بلتت و التت قلعے اور پشاور کا بالا حصار۔

سب سے طویل قلعہ: قلعہ رانی کوٹ (32 کلومیٹر)
صحرائی قلعہ: قلعہ دراوڑ (40 برج)
قدامت: 800 تا 1,100 سال پرانے محلات
تاریخی قلعے پورٹل کھولیں ←
⛺ ایڈونچر و نیشنل پارکس

ایڈونچر، بلند چوٹیاں و نیشنل پارکس (Adventure)

کے ٹو اور بالٹورو گلیشیئر کونکورڈیا، دیوسائی کا ہائی الٹی چیوڈ سطح مرتفع، ہنگول نیشنل پارک کی امید کی شہزادی اور پاک چین بارڈر خنجراب۔

دنیا کا تاج: کے ٹو (K2 — 8,611 M)
دوسری بلند ترین سطح مرتفع: دیوسائی (13,500 فٹ)
ساحلی نیشنل پارک: ہنگول (6,100 مربع KM)
ایڈونچر پورٹل کھولیں ←

پاکستان سیاحت و یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کا باضابطہ ماسٹر لیجر

مآخذ: پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PTDC) و محکمہ آثارِ قدیمہ (DOAM) ریکارڈ 2026
مقام / یادگار کا نام کیٹیگری مقام و صوبہ بلندی / دورانیہ بہترین موسم حیثیت و اسٹیٹس
🏔️ وادیٔ ہنزہ [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع ہنزہ، گلگت بلتستان (شاہراہ ریشم KKH پر گلگت سے 100 کلومیٹر شمال) 2,438 میٹر (8,000 فٹ سطح سمندر سے بلند) اپریل تا اکتوبر (بہار میں خوبانی کے شگوفے، گرمیوں میں سبزہ، خزاں میں سنہری پتے) قومی فلیگ شپ سیاحتی مقام و عالمی مسافروں کی پہلی پسند
🏔️ [تصاویر و کوائف ↗] مصدقہ مصدقہ
🏔️ وادیٔ اسکردو و بلتستان [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع اسکردو، بلتستان ڈویژن، گلگت بلتستان (دریائے سندھ اور شگر کے سنگم پر) 2,228 میٹر (7,310 فٹ) مئی تا ستمبر (گرمیوں کا خوشگوار موسم اور خزاں میں چناروں کا سنہری نظارہ) بین الاقوامی کوہ پیمائی کا ہیڈکوارٹر و ورلڈ کلاس سیاحتی مرکز
🏔️ وادیٔ سوات [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن مالاکنڈ ڈویژن، خیبر پختونخوا (سوات ایکسپریس وے کے ذریعے اسلام آباد سے 3.5 گھنٹے) 991 میٹر (سیدو شریف) تا 2,000+ میٹر (کالام و اتروڑ) سال کے بارہ مہینے (گرمیوں میں کالام و مہوڈنڈ، سردیوں میں مالم جبہ اسکینگ و برف باری) پاکستان کا سب سے پرکشش اور سب سے زیادہ وزٹ کیا جانے والا فیملی سیاحتی خطہ
🏔️ فیری میڈوز و نانگا پربت بیس کیمپ [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع دیامیر، گلگت بلتستان (رائے کوٹ پل سے تتو گاؤں اور پھر پیدل ٹریک) 3,300 میٹر (10,800 فٹ) جون تا ستمبر (گرمیوں میں سبزہ زار پھولوں سے ڈھک جاتا ہے) عالمی سطح پر مشہور ترین ایکو ٹورازم و ایڈونچر ٹریکنگ سائٹ
🏔️ وادیٔ نیلم [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع نیلم، آزاد جموں و کشمیر (مظفرآباد سے شروع ہو کر تاؤبٹ تک پھیلی ہوئی) 900 میٹر (مظفرآباد) تا 2,500+ میٹر (اڑنگ خیل و رتی گلی) مئی تا اکتوبر (گرمیوں میں معتدل و سرسبز، سردیوں میں شدید برف باری) آزاد کشمیر کا نمبر ون سیاحتی کوریڈور
🏛️ موہنجوداڑو [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثارِ قدیمہ ضلع لاڑکانہ، صوبہ سندھ (دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر واقع) 52 میٹر سطح سمندر سے بلند نومبر تا فروری (سندھ کا سرد اور خوشگوار موسم) یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ (UNESCO World Heritage Site 1980)
🏛️ ٹیکسلا و گندھارا آرٹ [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثارِ قدیمہ ضلع راولپنڈی، پنجاب (اسلام آباد سے صرف 35 کلومیٹر مغرب جی ٹی روڈ پر) 518 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا اپریل (خوشگوار معتدل موسم) یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ (UNESCO World Heritage Site 1980)
🏛️ تخت بھائی بدھ مت کمپلیکس [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثارِ قدیمہ تحصیل تخت بھائی، ضلع مردان، خیبر پختونخوا (پشاور سے 80 کلومیٹر شمال) 500 میٹر (پہاڑی پر 150 میٹر بلندی پر واقع) اکتوبر تا مارچ (سردیوں اور بہار کا خوشگوار موسم) یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ (UNESCO World Heritage Site 1980)
🏛️ مکلی قبرستان ٹھٹھہ [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثارِ قدیمہ ٹھٹھہ، صوبہ سندھ (کراچی سے 98 کلومیٹر مشرق نیشنل ہائی وے پر) 30 میٹر سطح سمندر سے بلند نومبر تا مارچ (سندھ کا معتدل و ٹھنڈا موسم) یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ (UNESCO World Heritage Site 1981)
🏛️ مہر گڑھ [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثارِ قدیمہ دریائے بولان کا میدان، ضلع کچھی سبی، بلوچستان 130 میٹر سطح سمندر سے بلند نومبر تا فروری (بلوچستان کے میدانی علاقے کا سرد اور معتدل موسم) عالمی آثاریاتی عجوبہ و یونیسکو کی عارضی فہرست (Tentative List 2004)
🏛️ شاہجہان مسجد ٹھٹھہ [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثارِ قدیمہ ٹھٹھہ شہر، صوبہ سندھ (مکلی قبرستان کے قریب اور کراچی سے 100 کلومیٹر) 15 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا مارچ (سندھ کا معتدل اور پرلطف سرد موسم) یونیسکو کی عارضی فہرست (Tentative List 1993) و قومی ورثہ
🏛️ اوچ شریف و مقبرہ بی بی جیوندی [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثارِ قدیمہ اوچ شریف، تحصیل احمد پور شرقیہ، ضلع بہاولپور، پنجاب 95 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا مارچ (پنجاب کا خوشگوار موسم) یونیسکو کی عارضی فہرست (Tentative List 2004) و قومی محفوظ یادگار
🏰 قلعہ دراوڑ [تصاویر و کوائف ↗] تاریخی قلعے و شاہکار عمارات صحرائے چولستان، ضلع بہاولپور، جنوبی پنجاب (بہاولپور شہر سے 100 کلومیٹر جنوب) 110 میٹر سطح سمندر سے بلند نومبر تا فروری (سردیوں کا سہانا موسم اور فروری کی انٹرنیشنل چولستان جیپ ریلی) قومی تاریخی یادگار و مجوزہ یونیسکو عالمی ورثہ
🏰 قلعہ رانی کوٹ [تصاویر و کوائف ↗] تاریخی قلعے و شاہکار عمارات ضلع جامشورو، صوبہ سندھ (کھیرتھر پہاڑی سلسلے میں کراچی سے 260 کلومیٹر شمال) پہاڑی گھاٹیاں اور 32 کلومیٹر فصیل نومبر تا فروری (سردیوں میں ٹریکنگ اور ایڈونچر کے لیے بہترین) قومی تاریخی ورثہ و دنیا کا طویل ترین قلعہ
🏰 قلعہ کوٹ ڈیجی [تصاویر و کوائف ↗] تاریخی قلعے و شاہکار عمارات کوٹ ڈیجی، ضلع خیرپور میرس، سندھ (نیشنل ہائی وے N-5 سے متصل) 68 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا مارچ (سندھ کا معتدل اور خوشگوار موسم) قومی تاریخی ورثہ و محکمہ آثارِ قدیمہ سندھ محفوظ یادگار
🏰 قلعہ رام کوٹ [تصاویر و کوائف ↗] تاریخی قلعے و شاہکار عمارات ضلع میرپور، آزاد جموں و کشمیر (منگلا ڈیم کے آبی ذخیرے کے درمیان چٹانی جزیرہ) 580 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا اپریل (خوشگوار موسم اور منگلا جھیل میں بوٹنگ کا بہترین وقت) آزاد کشمیر حکومت کا محفوظ تاریخی ورثہ و ممتاز واٹر ایڈونچر مقام
🏰 قلعہ اٹک بنارس [تصاویر و کوائف ↗] تاریخی قلعے و شاہکار عمارات اٹک خورد، پنجاب (دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر کے پی اور پنجاب کے بارڈر پر) 350 میٹر سطح سمندر سے بلند سال کے ۱۲ مہینے (خاص طور پر اکتوبر تا اپریل کا خوشگوار موسم) قومی عسکری یادگار و تاریخی دفاعی قلعہ
🏰 قلعہ نندنہ [تصاویر و کوائف ↗] تاریخی قلعے و شاہکار عمارات باغاں والا، تحصیل پنڈ دادن خان، ضلع جہلم (کوہستانِ نمک کے تاریخی درے پر) 450 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا مارچ (ہائیکنگ اور کھوج کا بہترین موسم) عالمی سائنسی یادگار، البیرونی ہیریٹیج ٹریل و قومی محفوظ آثار
🏰 قلعہ بلتت و قلعہ التت [تصاویر و کوائف ↗] تاریخی قلعے و شاہکار عمارات کریم آباد و التت ولیج، وادیٔ ہنزہ، گلگت بلتستان (شاہراہ قراقرم سے بلندی پر) 2,500 میٹر سطح سمندر سے بلند اپریل تا نومبر (بہار، گرمیوں اور خزاں کے تمام خوبصورت ایام) یونیسکو ایشیا پیسیفک ہیریٹیج ایوارڈ و آغا خان کلچرل سروسز بحال شدہ شاہکار
⛺ کے ٹو [تصاویر و کوائف ↗] ایڈونچر، بلند چوٹیاں و نیشنل پارکس سلسلہ کوہ قراقرم، ضلع شگر، گلگت بلتستان (پاک چین سرحد پر) 8,611 میٹر (28,251 فٹ — دنیا کا دوسرا بلند ترین مقام) جون تا اگست (سمر کلائمنگ اور بالٹورو گلیشیئر ٹریکنگ سیزن) دنیا کا سب سے عظیم ماؤنٹینیئرنگ چیلنج و سینٹرل قراقرم نیشنل پارک
⛺ دیوسائی نیشنل پارک [تصاویر و کوائف ↗] ایڈونچر، بلند چوٹیاں و نیشنل پارکس ضلع اسکردو و ضلع استور کا سنگم، گلگت بلتستان 4,114 میٹر (13,497 فٹ اوسط بلندی) جولائی تا ستمبر (سال کے 8 ماہ برف تلے دبا رہنے کے بعد صرف 3 ماہ کے لیے کھلتا ہے) محفوظ قومی پارک (1993) و مجوزہ یونیسکو عالمی قدرتی ورثہ
⛺ ہنگول نیشنل پارک [تصاویر و کوائف ↗] ایڈونچر، بلند چوٹیاں و نیشنل پارکس ضلع لسبیلہ و گوادر، صوبہ بلوچستان (مکران کوسٹل ہائی وے N-10 پر کراچی سے 190 کلومیٹر) ساحلی سطح سمندر سے لے کر 1,000 میٹر اونچی چٹانیں اکتوبر تا مارچ (سردیوں اور بہار کا خوشگوار ساحلی موسم) پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا نیشنل پارک (6,100 مربع کلومیٹر)
🏰 شاہی قلعہ لاہور [تصاویر و کوائف ↗] تاریخی قلعے و شاہکار اندرونِ لاہور، پنجاب (گریٹر اقبال پارک و بادشاہی مسجد کے متصل) 217 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا اپریل (خوشگوار معتدل موسم اور سیاحتی سیزن) یونیسکو باضابطہ عالمی ثقافتی ورثہ (UNESCO World Heritage Site 1981)
🏰 قلعہ روہتاس [تصاویر و کوائف ↗] تاریخی قلعے و شاہکار تحصیل دینا، ضلع جہلم، پنجاب (جی ٹی روڈ سے 16 کلومیٹر دور پوٹھوہار کے دامن میں) 818 میٹر سطح سمندر سے بلند نومبر تا مارچ (خوشگوار ٹھنڈا موسم اور ہائیکنگ سیزن) یونیسکو باضابطہ عالمی ثقافتی ورثہ (UNESCO World Heritage Site 1997)
🏰 قلعہ بالا حصار [تصاویر و کوائف ↗] تاریخی قلعے و شاہکار جی ٹی روڈ، پشاور، خیبر پختونخوا (پشاور کینٹ اور تاریخی قصہ خوانی بازار کے بالمقابل) 359 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا اپریل (خوشگوار اور ٹھنڈا موسم) قومی تاریخی ورثہ و فرنٹیئر کور (FC) ہیڈکوارٹرز
🏛️ بادشاہی مسجد [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثار اندرونِ لاہور، پنجاب (شاہی قلعہ لاہور کے روبرو، حضوری باغ کے بالمقابل) 217 میٹر سطح سمندر سے بلند سال کے بارہ مہینے (خصوصاً سردیوں میں اور نمازِ جمعہ و تراویح) یونیسکو عارضی فہرست (Tentative List 1993) و پاکستان کی قومی مسجد
🏛️ شالامار باغ [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثار جی ٹی روڈ، باغبانپورہ، لاہور (شہر کے مرکز سے 8 کلومیٹر مشرق میں) 217 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا اپریل (موسمِ بہار میں گلاب اور چنبیلی کے شگوفے) یونیسکو باضابطہ عالمی ثقافتی ورثہ (UNESCO World Heritage Site 1981)
🏛️ مسجد وزیر خان [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثار دہلی گیٹ کے اندر، شاہی گزرگاہ، اندرونِ لاہور، پنجاب 217 میٹر سطح سمندر سے بلند سال کے بارہ مہینے (صبح کے وقت فوٹوگرافی کی سنہری دھوپ) یونیسکو عارضی فہرست (Tentative List 1993) و آغا خان ثقافتی ٹرسٹ تحفظ
🏛️ ہرن مینار و شاہی تالاب [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثار شیخوپورہ شہر کے مضافات، پنجاب (موٹروے M-2 ہرن مینار انٹرچینج سے 5 کلومیٹر) 236 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا مارچ (سردیوں کی دھوپ اور فیملی پکنک کے لیے بہترین) یونیسکو عارضی فہرست (Tentative List 1993) و قومی محفوظ یادگار
🏛️ مقبرہ جہانگیر و ملکہ نور جہاں [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثار شاہدرہ باغ، دریائے راوی کے پار، لاہور (جی ٹی روڈ کے متصل) 217 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا اپریل (سردیوں میں دھوپ اور سرسبز باغات کی چہل قدمی) یونیسکو عارضی فہرست (Tentative List 1993) و قومی محفوظ تاریخی ورثہ
🏔️ وادیٔ کاغان و جھیل سیف الملوک [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن تحصیل بالاکوٹ، ضلع مانسہرہ، خیبر پختونخوا (ہزارہ موٹروے براستہ ناران روڈ) 3,224 میٹر (جھیل سیف الملوک) تا 4,173 میٹر (بابوسر ٹاپ) مئی تا اکتوبر (گرمیوں میں سرسبز میدان، جھیل کے شفاف پانی اور ناران وادی کا عروج) پاکستان کا سرفہرست الپائن سیاحتی مرکز و پی ٹی ڈی سی فلیگ شپ زون
🏔️ وادیٔ کمراٹ و جہاز بانڈہ [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع دیر بالا، خیبر پختونخوا (چترال و سوات کے سنگم پر واقع کوہستانی وادی) 2,400 میٹر تا 3,500 میٹر (کٹورا جھیل) مئی تا ستمبر (گرمیوں کا معتدل پرسکون موسم اور کیمپنگ سیزن) پاکستان کا جدید ترین ابھرتا ہوا الپائن ایکو ٹورازم پیراڈائز
🏔️ وادیٔ کلاش و چترال [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع چترال، خیبر پختونخوا (افغانستان کی سرحد کے قریب سلسلہ کوہ ہندوکش میں واقع) 1,670 میٹر (بمبوریت) تا 7,708 میٹر (ترچ میر چوٹی) مئی (چلم جوش فیسٹیول)، اگست (اوچال) اور دسمبر (چوموس فیسٹیول) یونیسکو غیر مادی ثقافتی ورثہ (UNESCO Intangible Cultural Heritage)
🏔️ وادیٔ نلتر و رنگین جھیلیں [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع گلگت، گلگت بلتستان (شاہراہِ قراقرم نومل موڑ سے 40 کلومیٹر دور) 2,880 میٹر (نلتر بالا) تا 3,100 میٹر (سترنگی جھیل) جون تا اکتوبر (رنگ برنگی جھیلیں اور سبزہ)، دسمبر تا فروری (برف باری اور سکیئنگ) پاکستان ایئر فورس کا بین الاقوامی سکی چیمپئن شپ مرکز و قدرتی ریزرو
🏔️ وادیٔ استور و راما میڈوز [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع استور، گلگت بلتستان (شاہراہِ قراقرم جگلوٹ موڑ سے دریائے استور کے ساتھ) 2,600 میٹر (استور شہر) تا 3,180 میٹر (راما میڈوز) جون تا اکتوبر (گرمیوں کا الپائن سیزن اور دیوسائی کراسنگ) کوہ پیمائی کا تاریخی کوریڈور و پرسکون قدرتی خطہ
🏔️ نتھیا گلی، مشک پوری و گلیات [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع ایبٹ آباد، خیبر پختونخوا (مری تا ایبٹ آباد گلیات کوریڈور) 2,410 میٹر (نتھیا گلی) تا 2,992 میٹر (میرانجانی ٹاپ) سارا سال (گرمیوں میں ٹھنڈک اور بادل، سردیوں میں شدید برف باری اور اسنو ٹورازم) پاکستان کا سب سے پرسکون اور دارالحکومت سے قریب ترین پہاڑی ہیلتھ ریزورٹ
⛺ کنڈ ملیر و ہنگول کوسٹل وادی [تصاویر و کوائف ↗] ایڈونچر، بلند چوٹیاں و نیشنل پارکس ضلع لسبیلہ و گوادر، بلوچستان (مکران کوسٹل ہائی وے N-10 پر کراچی سے 240 کلومیٹر) سطح سمندر سے صفر میٹر (ساحل) تا 150 میٹر (چٹانی خدوخال) اکتوبر تا مارچ (خوشگوار معتدل موسم، ٹھنڈی ہوائیں اور فلکیاتی کیمپنگ) پاکستان کا عالمی شہرت یافتہ سنہری ساحل و ہنگول نیشنل پارک زون
⛺ نانگا پربت، فیری میڈوز و بیس کیمپ [تصاویر و کوائف ↗] ایڈونچر، بلند چوٹیاں و نیشنل پارکس ضلع دیامر، گلگت بلتستان (شاہراہِ قراقرم رائی کوٹ پل سے فیری میڈوز ٹریک) 3,300 میٹر (فیری میڈوز) تا 8,126 میٹر (نانگا پربت سمٹ) مئی تا اکتوبر (گرمیوں کا الپائن ٹریکنگ سیزن) دنیا کی ۹ویں بلند ترین چوٹی و بین الاقوامی کوہ پیمائی کا خطرناک ترین ہدف
🏛️ کٹاس راج مندر و وادیٔ سون [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثارِ قدیمہ چوآ سیدن شاہ، ضلع چکوال، پنجاب (ایم ٹو موٹروے کلر کہار انٹرچینج سے 25 کلومیٹر) 600 میٹر سطح سمندر سے بلند (کوہستانِ نمک / Salt Range) اکتوبر تا اپریل (خوشگوار معتدل موسم اور سیاحتی سیزن) قومی تاریخی و مذہبی ورثہ و بین الاقوامی یاتریوں کی متبرک زیارت گاہ
🏛️ ہڑپہ — وادیٔ سندھ کا قدیم دارالحکومت [تصاویر و کوائف ↗] یونیسکو عالمی ورثہ و آثارِ قدیمہ تحصیل و ضلع ساہیوال، پنجاب (جی ٹی روڈ N-5 پر ساہیوال سے 24 کلومیٹر مغرب میں) 160 میٹر سطح سمندر سے بلند اکتوبر تا مارچ (خوشگوار معتدل موسم اور پرسکون تاریخی واک) وادیٔ سندھ کی مادری تہذیب و پاکستان کا قومی تاریخی ورثہ
🏔️ وادیٔ زیارت [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع زیارت، بلوچستان (کوئٹہ سے ۱۲۵ کلومیٹر شمال مشرق براستہ کچلاگ زیارت ہائی وے) ۲,۴۵۳ میٹر (۸,۰۵۰ فٹ سطح سمندر سے بلند) مئی تا اکتوبر (خوشگوار ٹھنڈا موسم) اور دسمبر تا فروری (برف باری و ونٹر اسپورٹس) یونیسکو بایوسفیئر ریزرو (UNESCO Biosphere Reserve 2013) و قومی ماحولیاتی ورثہ
🏔️ وادیٔ پھندر و غذر [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع غذر، گلگت بلتستان (گلگت سے ۱۷۰ کلومیٹر مغرب براستہ گلگت-شندور روڈ) ۲,۲۰۰ میٹر (۷,۲۱۸ فٹ سطح سمندر سے بلند) مئی تا اکتوبر (گرمیوں میں شاداب سبزہ و جھیلیں اور خزاں میں سنہری درخت) دنیا کے پرامن ترین قدرتی نخلستانوں اور مچھلی کے شکار کا بین الاقوامی مسکن
🏔️ وادیٔ شگر [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع شگر، بلتستان، گلگت بلتستان (اسکردو سے ۳۲ کلومیٹر شمال مشرق) ۲,۲۳۰ میٹر (۷,۳۱۶ فٹ سطح سمندر سے بلند) اپریل تا اکتوبر (بہار کے شگوفے، گرمیوں کے میوہ جات اور خزاں کا چنار) تاریخی راجواڑہ و ورلڈ کلاس ہیریٹیج ریزارٹ (آغا خان ایوارڈ یافتہ)
🏔️ وادیٔ خپلو و گنگچھے [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع گنگچھے، بلتستان، گلگت بلتستان (اسکردو سے ۱۰۳ کلومیٹر مشرق براستہ دریائے شیوک روڈ) ۲,۶۰۰ میٹر (۸,۵۳۰ فٹ سطح سمندر سے بلند) مئی تا اکتوبر (خوشگوار معتدل موسم، چناروں کا حسن اور تازہ پھل) پاکستان کی آخری مشرقی ترین شاہی وادی و ورثہ ایوارڈ یافتہ محل
🏔️ وادیٔ لیپہ [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع جہلم ویلی / ہٹیاں بالا، آزاد کشمیر (مظفرآباد سے ۸۵ کلومیٹر فاصلے پر براستہ ریشیاں گلی) ۱,۹۲۱ میٹر (۶,۳۰۲ فٹ سطح سمندر سے بلند) مئی تا اکتوبر (اگست و ستمبر میں چاول کے کھیت سنہری اور دیدنی ہوتے ہیں) آزاد کشمیر کا پوشیدہ اور خوبصورت ترین قدرتی ہیرا
🏔️ بنجوسہ جھیل و تولی پیر [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع پونچھ، آزاد جموں و کشمیر (راولاکوٹ سے ۲۰ کلومیٹر دور) ۱,۹۸۱ میٹر (بنجوسہ جھیل) تا ۲,۶۸۲ میٹر (تولی پیر چوٹی) سال کے بارہ مہینے (گرمیوں میں ٹھنڈی ہوائیں، خزاں میں سرخ پتے، سردیوں میں برف باری) جڑواں شہروں (اسلام آباد و پنڈی) کے لیے سب سے قریب ترین الپائن ریفریشمنٹ مرکز
🏔️ گورکھ ہِل اسٹیشن [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن کوہِ کیرتھر، تعلقہ جوہی، ضلع دادو، صوبہ سندھ (کراچی سے ۴۲۳ کلومیٹر اور دادو سے ۹۴ کلومیٹر) ۱,۷۳۴ میٹر (۵,۶۸۸ فٹ سطح سمندر سے بلند) اکتوبر تا اپریل (سردیوں میں رات کا درجہ حرارت منفی ۲ سے ۵ ڈگری تک گر جاتا ہے) سندھ کا سب سے اونچا سیاحتی پہاڑی مقام اور کیمپنگ کا بین الاقوامی مرکز
🏔️ وادیٔ سون سکیسر [تصاویر و کوائف ↗] شمالی وادیاں و قدرتی حسن ضلع خوشاب، پنجاب (براستہ کلر کہار موٹروے M-2 یا جوہرآباد سرگودھا روڈ) ۷۶۲ میٹر (وادی کا فرش) تا ۱,۵۲۷ میٹر (سکیسر چوٹی ۵,۰۱۰ فٹ) اکتوبر تا اپریل (موسمِ سرما میں ہجرتی پرندوں کا بسیرا، خوشگوار دھوپ اور جھیلیں) بین الاقوامی ماحولیاتی رامسر سائٹ (Ramsar Wetland Site) و پوٹھوہار کا سرسبز باغ