ہوا کا زور بھی دیکھا چراغ کا دم بھی
Hawa ka Zor bhi Dekha Chiraagh ka Dum bhi
ہوا کا زور بھی دیکھا چراغ کا دم بھی
ہم نے ستم کا ہر اک روپ دیکھا ہے یہاں
حق کے متوالوں کو کب روک سکی ہے دیوار
ہم نے ہر قید میں رستہ بنایا ہے یہاں
جالبؔ اس قوم کی قسمت سنور ہی جائے گی
ہم نے قربانی کا پرچم اٹھایا ہے یہاں
Hawa Ka Zor Bhi Dekha Chiraagh Ka Dum Bhi
Hum Ne Sitam Ka Har Ik Roop Dekha Hai Yahan
Haq Ke Matwaalon Ko Kab Rok Saki Hai Deewar
Hum Ne Har Qaid Mein Rasta Banaya Hai Yahan
غزل
تعارفِ شاعر
حبیب جالب
حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...
