شاعری ہب / غزل / ہوا کا زور بھی دیکھا چراغ کا دم بھی

ہوا کا زور بھی دیکھا چراغ کا دم بھی

Hawa ka Zor bhi Dekha Chiraagh ka Dum bhi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

ہوا کا زور بھی دیکھا چراغ کا دم بھی

ہم نے ستم کا ہر اک روپ دیکھا ہے یہاں

حق کے متوالوں کو کب روک سکی ہے دیوار

ہم نے ہر قید میں رستہ بنایا ہے یہاں

جالبؔ اس قوم کی قسمت سنور ہی جائے گی

ہم نے قربانی کا پرچم اٹھایا ہے یہاں

Hawa Ka Zor Bhi Dekha Chiraagh Ka Dum Bhi

Hum Ne Sitam Ka Har Ik Roop Dekha Hai Yahan

Haq Ke Matwaalon Ko Kab Rok Saki Hai Deewar

Hum Ne Har Qaid Mein Rasta Banaya Hai Yahan

غزل
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے