شاعری ہب / نظم / اے چاند یہاں نہ نکلا کر

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

Ae Chand Yahan na Nikla Kar Nazm Habib Jalib

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہ بستی ہے کنگلوں کی

یہاں بھوک اگی ہے چہروں پر

یہاں بچے روتے سوتے ہیں

یہاں مائیں آنسو پیتے ہیں

تو اپنی چاندنی لے جا کر

ان کے محلات میں چمکا دے

جنہوں نے لوٹا ہے اس بستی کا نور!

Aye Chand Yahan Na Nikla Kar

Yeh Basti Hai Kanglon Ki

Yahan Bhook Ugi Hai Chehron Par

Yeh Chandni Le Ja Kar

Un Ke Mehlaat Mein Chamka De

Jinhein Ne Loota Hai Is Basti Ka Noor!

نظم
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے