محبت گولیوں سے بو رہے ہو
Mohabbat Goliyon se Bo Rahe Ho
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
جو اپنے ہی بھائیوں پر گولیاں چلائے
وہ نفرتوں کے بیج ہی بو رہے ہو
عوام کے دلوں کو تم جیت نہ سکے
ستم کے مقتل میں اب رو رہے ہو
جالبؔ یہ خونِ ناحق پکارے گا کل
کہ تم اپنی تباہی خود ہی کھو رہے ہو
Mohabbat golion se Boo rhey ho
Vatan ka Chehra Khoon se dho rhey ho
Gman tum ko ke Rasta kat Raha hai
Yaqeen mujh ko ke Manzil Kho rhey ho
Jo Apne hi bhaeion par golian Chalae
Woh Nafraton ke Beej hi Boo rhey ho
Avam ke Dilon ko tum Jeet na skey
Sitam ke maqtal mein ab ro rhey ho
Jalb yeh khoon-e nahq Pukare Ga kal
Ke tum Apni Tabaahi Khud hi Kho rhey ho
حبیب جالب
حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...
