شاعری ہب / غزل / باتیں ہیں اور بات کی لیکن وہ بات ہے

باتیں ہیں اور بات کی لیکن وہ بات ہے

Baten Hain aur Baat ki Lekin Woh Baat Hai

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

باتیں ہیں اور بات کی لیکن وہ بات ہے

جس بات میں عوام کے دکھ کا نکھار ہے

ہم نے تو لکھی ہے سدا سچ کی داستاں

جس میں غریبِ شہر کا دل بے قرار ہے

جالبؔ نہ جھک سکا ہے نہ جھک پائے گا قلم

جب تک ترے لہو میں وفا کا خمار ہے

Baatein Hain Aur Baat Ki Lekin Woh Baat Hai

Jis Baat Mein Awaam Ke Dukh Ka Nikhaar Hai

Hum Ne To Likhi Hai Sada Sach Ki Daastaan

Jis Mein Ghareeb-e-Shahr Ka Dil Be-Qaraar Hai

غزل
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے