باتیں ہیں اور بات کی لیکن وہ بات ہے
Baten Hain aur Baat ki Lekin Woh Baat Hai
باتیں ہیں اور بات کی لیکن وہ بات ہے
جس بات میں عوام کے دکھ کا نکھار ہے
ہم نے تو لکھی ہے سدا سچ کی داستاں
جس میں غریبِ شہر کا دل بے قرار ہے
جالبؔ نہ جھک سکا ہے نہ جھک پائے گا قلم
جب تک ترے لہو میں وفا کا خمار ہے
Baatein Hain Aur Baat Ki Lekin Woh Baat Hai
Jis Baat Mein Awaam Ke Dukh Ka Nikhaar Hai
Hum Ne To Likhi Hai Sada Sach Ki Daastaan
Jis Mein Ghareeb-e-Shahr Ka Dil Be-Qaraar Hai
غزل
تعارفِ شاعر
حبیب جالب
حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...
