|
🏔️ وادیٔ ہنزہ
|
ضلع ہنزہ، گلگت بلتستان (شاہراہ ریشم KKH پر گلگت سے 100 کلومیٹر شمال) |
2,438 میٹر (8,000 فٹ سطح سمندر سے بلند) |
اسلام آباد سے پی آئی اے کی روزانہ گلگت فلائٹ (45 منٹ) اور پھر وہاں سے شاہراہِ ریشم پر ڈیڑھ گھنٹے کا حسین زمینی سفر؛ یا بذریعہ اسلام آباد-مانسہرہ ایکسپریس وے، ناران-بابوسر پاس یا بشام روٹ 14 تا 16 گھنٹے کا روڈ ٹرپ۔ |
اپریل تا اکتوبر (بہار میں خوبانی کے شگوفے، گرمیوں میں سبزہ، خزاں میں سنہری پتے) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ اسکردو و بلتستان
|
ضلع اسکردو، بلتستان ڈویژن، گلگت بلتستان (دریائے سندھ اور شگر کے سنگم پر) |
2,228 میٹر (7,310 فٹ) |
اسلام آباد، لاہور یا کراچی سے پی آئی اے اور دیگر ایئرلائنز کی براہِ راست جیٹ فلائٹس روزانہ دستیاب ہیں (صرف 50 منٹ فلائٹ)؛ زمینی راستے سے شاہراہِ ریشم پر جگلوٹ کے مقام سے نئی 4-لین اسکردو موٹروے کے ذریعے مسحور کن دریائے سندھ کی وادی کے ساتھ ساتھ سفر ممکن ہے۔ |
مئی تا ستمبر (گرمیوں کا خوشگوار موسم اور خزاں میں چناروں کا سنہری نظارہ) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ سوات
|
مالاکنڈ ڈویژن، خیبر پختونخوا (سوات ایکسپریس وے کے ذریعے اسلام آباد سے 3.5 گھنٹے) |
991 میٹر (سیدو شریف) تا 2,000+ میٹر (کالام و اتروڑ) |
اسلام آباد سے براستہ اسلام آباد-پشاور موٹروے (M-1) اور کرنل شیر خان انٹرچینج سے سوات ایکسپریس وے پر سیدھا چکدرہ اور منگورہ/سیدو شریف تک 3.5 گھنٹے میں رسائی؛ منگورہ سے کالام مزید ڈھائی گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے۔ |
سال کے بارہ مہینے (گرمیوں میں کالام و مہوڈنڈ، سردیوں میں مالم جبہ اسکینگ و برف باری) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ فیری میڈوز و نانگا پربت بیس کیمپ
|
ضلع دیامیر، گلگت بلتستان (رائے کوٹ پل سے تتو گاؤں اور پھر پیدل ٹریک) |
3,300 میٹر (10,800 فٹ) |
اسلام آباد سے کے کے ایچ (KKH) پر چلاس کے قریب "رائے کوٹ پل" تک پہنچیں؛ رائے کوٹ پل سے مقامی منظور شدہ 4x4 ماؤنٹین جیپ کرایہ پر لے کر تتو گاؤں تک جائیں اور وہاں سے 2.5 گھنٹے کی پیدل ہائیک یا گھوڑے پر سفر کریں۔ |
جون تا ستمبر (گرمیوں میں سبزہ زار پھولوں سے ڈھک جاتا ہے) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ نیلم
|
ضلع نیلم، آزاد جموں و کشمیر (مظفرآباد سے شروع ہو کر تاؤبٹ تک پھیلی ہوئی) |
900 میٹر (مظفرآباد) تا 2,500+ میٹر (اڑنگ خیل و رتی گلی) |
اسلام آباد سے مری ایکسپریس وے یا کوہالہ روڈ کے ذریعے مظفرآباد (3.5 گھنٹے)، اور مظفرآباد سے نیلم ویلی روڈ پر کیرن (3 گھنٹے) اور شاردا (5 گھنٹے) کا پر لطف سفر۔ |
مئی تا اکتوبر (گرمیوں میں معتدل و سرسبز، سردیوں میں شدید برف باری) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ کاغان و جھیل سیف الملوک
|
تحصیل بالاکوٹ، ضلع مانسہرہ، خیبر پختونخوا (ہزارہ موٹروے براستہ ناران روڈ) |
3,224 میٹر (جھیل سیف الملوک) تا 4,173 میٹر (بابوسر ٹاپ) |
اسلام آباد سے ہزارہ موٹروے (M-15) کے ذریعے مانسہرہ اور پھر بالاکوٹ پہنچیں، وہاں سے این-15 نیشنل ہائی وے کے ذریعے دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ ناران پہنچا جاتا ہے۔ ناران بازار سے جھیل سیف الملوک کے لیے فور بائی فور جیپیں 40 منٹ کا سنسنی خیز ٹریک طے کرتی ہیں۔ |
مئی تا اکتوبر (گرمیوں میں سرسبز میدان، جھیل کے شفاف پانی اور ناران وادی کا عروج) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ کمراٹ و جہاز بانڈہ
|
ضلع دیر بالا، خیبر پختونخوا (چترال و سوات کے سنگم پر واقع کوہستانی وادی) |
2,400 میٹر تا 3,500 میٹر (کٹورا جھیل) |
اسلام آباد سے سوات موٹروے (M-16) پر چکدرہ انٹرچینج اتریں، وہاں سے تیمرگرہ اور دیر بالا کے راستے براستہ شرینگل تھل بازار پہنچیں۔ تھل سے 4x4 جیپیں کمراٹ وادی اور کلا کٹوری تک جاتی ہیں۔ |
مئی تا ستمبر (گرمیوں کا معتدل پرسکون موسم اور کیمپنگ سیزن) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ کلاش و چترال
|
ضلع چترال، خیبر پختونخوا (افغانستان کی سرحد کے قریب سلسلہ کوہ ہندوکش میں واقع) |
1,670 میٹر (بمبوریت) تا 7,708 میٹر (ترچ میر چوٹی) |
اسلام آباد سے سوات ایکسپریس وے کے ذریعے تیمرگرہ پہنچیں، وہاں سے جدید لواری سرنگ کو پار کر کے دروش اور چترال شہر پہنچیں۔ چترال شہر سے 4x4 جیپ یا کار کے ذریعے ڈیڑھ گھنٹے میں بمبوریت کلاش وادی پہنچا جا سکتا ہے۔ |
مئی (چلم جوش فیسٹیول)، اگست (اوچال) اور دسمبر (چوموس فیسٹیول) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ نلتر و رنگین جھیلیں
|
ضلع گلگت، گلگت بلتستان (شاہراہِ قراقرم نومل موڑ سے 40 کلومیٹر دور) |
2,880 میٹر (نلتر بالا) تا 3,100 میٹر (سترنگی جھیل) |
گلگت شہر سے شاہراہِ قراقرم پر شمال کی طرف نومل گاؤں تک 25 کلومیٹر کار پر سفر کریں، نومل کے لوہے کے پل سے نلتر تک صرف 4x4 جیپ ہی سفر کر سکتی ہے جو پتھریلی چڑھائی عبور کر کے نلتر پائن اور نلتر بالا پہنچاتی ہے۔ |
جون تا اکتوبر (رنگ برنگی جھیلیں اور سبزہ)، دسمبر تا فروری (برف باری اور سکیئنگ) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ استور و راما میڈوز
|
ضلع استور، گلگت بلتستان (شاہراہِ قراقرم جگلوٹ موڑ سے دریائے استور کے ساتھ) |
2,600 میٹر (استور شہر) تا 3,180 میٹر (راما میڈوز) |
شاہراہِ قراقرم پر جگلوٹ کے مقام پر دریائے سندھ کا پل پار کر کے جگلوٹ-استور روڈ پر داخل ہوں۔ 3 سے 4 گھنٹے میں استور پہنچ کر آگے راما اور ترشنگ کے لیے جیپ لی جاتی ہے۔ |
جون تا اکتوبر (گرمیوں کا الپائن سیزن اور دیوسائی کراسنگ) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ نتھیا گلی، مشک پوری و گلیات
|
ضلع ایبٹ آباد، خیبر پختونخوا (مری تا ایبٹ آباد گلیات کوریڈور) |
2,410 میٹر (نتھیا گلی) تا 2,992 میٹر (میرانجانی ٹاپ) |
اسلام آباد سے مری ایکسپریس وے (E-75) کے ذریعے لوئر ٹوپہ پہنچیں اور وہاں سے مری ایبٹ آباد روڈ کے ذریعے باڑیاں، خانسپور، ایوبیہ، ڈونگا گلی اور نتھیا گلی تک پہنچیں۔ پورا راستہ پختہ اور ہر قسم کی کار کے لیے موزوں ہے۔ |
سارا سال (گرمیوں میں ٹھنڈک اور بادل، سردیوں میں شدید برف باری اور اسنو ٹورازم) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ زیارت
|
ضلع زیارت، بلوچستان (کوئٹہ سے ۱۲۵ کلومیٹر شمال مشرق براستہ کچلاگ زیارت ہائی وے) |
۲,۴۵۳ میٹر (۸,۰۵۰ فٹ سطح سمندر سے بلند) |
کوئٹہ ایئرپورٹ یا کوئٹہ شہر سے کچلاگ، خانوزئی اور مسلم باغ روڈ پر شمال مشرق کی طرف جائیں؛ ۱۲۵ کلومیٹر کا فاصلہ بہترین کارپٹڈ این-۵۰ اور زیارت روڈ کے ذریعے ڈھائی گھنٹے میں آسانی سے طے ہوتا ہے۔ |
مئی تا اکتوبر (خوشگوار ٹھنڈا موسم) اور دسمبر تا فروری (برف باری و ونٹر اسپورٹس) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ پھندر و غذر
|
ضلع غذر، گلگت بلتستان (گلگت سے ۱۷۰ کلومیٹر مغرب براستہ گلگت-شندور روڈ) |
۲,۲۰۰ میٹر (۷,۲۱۸ فٹ سطح سمندر سے بلند) |
گلگت شہر یا گاہکوچ سے گلگت-شندور روڈ پر مغرب کی جانب سفر کریں؛ ۵ گھنٹے کی پختہ سڑک دریائے غذر کے شفاف پانیوں کے ساتھ ساتھ سیدھی پھندر جھیل کے دامن تک پہنچاتی ہے۔ |
مئی تا اکتوبر (گرمیوں میں شاداب سبزہ و جھیلیں اور خزاں میں سنہری درخت) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ شگر
|
ضلع شگر، بلتستان، گلگت بلتستان (اسکردو سے ۳۲ کلومیٹر شمال مشرق) |
۲,۲۳۰ میٹر (۷,۳۱۶ فٹ سطح سمندر سے بلند) |
اسکردو شہر یا اسکردو ایئرپورٹ سے نئی کشادہ سڑک اور دریائے سندھ پر بنے شگر پل کو عبور کر کے محض ۴۰ منٹ میں شگر بازار اور قلعے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ |
اپریل تا اکتوبر (بہار کے شگوفے، گرمیوں کے میوہ جات اور خزاں کا چنار) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ خپلو و گنگچھے
|
ضلع گنگچھے، بلتستان، گلگت بلتستان (اسکردو سے ۱۰۳ کلومیٹر مشرق براستہ دریائے شیوک روڈ) |
۲,۶۰۰ میٹر (۸,۵۳۰ فٹ سطح سمندر سے بلند) |
اسکردو سے دریائے سندھ اور دریائے شیوک کے ساتھ ساتھ شیوک ہائی وے پر مشرق کی جانب سفر کریں؛ ڈھائی گھنٹے کی ہموار اور کشادہ روڈ سیدھی خپلو کے سبز باغات اور چناروں کے دامن میں لے جاتی ہے۔ |
مئی تا اکتوبر (خوشگوار معتدل موسم، چناروں کا حسن اور تازہ پھل) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ لیپہ
|
ضلع جہلم ویلی / ہٹیاں بالا، آزاد کشمیر (مظفرآباد سے ۸۵ کلومیٹر فاصلے پر براستہ ریشیاں گلی) |
۱,۹۲۱ میٹر (۶,۳۰۲ فٹ سطح سمندر سے بلند) |
مظفرآباد سے سری نگر ہائی وے پر ہٹیاں بالا پہنچیں، وہاں سے ریشیاں گاؤں جائیں اور پھر ریشیاں سے جیپ کے ذریعے ریشیاں پاس کو عبور کر کے وادیٔ لیپہ میں اتریں۔ |
مئی تا اکتوبر (اگست و ستمبر میں چاول کے کھیت سنہری اور دیدنی ہوتے ہیں) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ بنجوسہ جھیل و تولی پیر
|
ضلع پونچھ، آزاد جموں و کشمیر (راولاکوٹ سے ۲۰ کلومیٹر دور) |
۱,۹۸۱ میٹر (بنجوسہ جھیل) تا ۲,۶۸۲ میٹر (تولی پیر چوٹی) |
اسلام آباد سے براستہ سہالہ، کہوٹہ اور آزاد پتن پل آزاد کشمیر میں داخل ہوں؛ پختہ کارپٹڈ سڑک کے ذریعے راولاکوٹ شہر پہنچیں اور وہاں سے ۲۰ منٹ میں بنجوسہ جھیل پہنچا جا سکتا ہے۔ |
سال کے بارہ مہینے (گرمیوں میں ٹھنڈی ہوائیں، خزاں میں سرخ پتے، سردیوں میں برف باری) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ گورکھ ہِل اسٹیشن
|
کوہِ کیرتھر، تعلقہ جوہی، ضلع دادو، صوبہ سندھ (کراچی سے ۴۲۳ کلومیٹر اور دادو سے ۹۴ کلومیٹر) |
۱,۷۳۴ میٹر (۵,۶۸۸ فٹ سطح سمندر سے بلند) |
کراچی یا حیدرآباد سے انڈس ہائی وے (N-55) کے ذریعے سیہون شریف اور دادو پہنچیں؛ دادو سے جوہی اور واہی پاندھی تک پختہ سڑک ہے۔ واہی پاندھی کے بیس کیمپ سے مقامی 4x4 جیپیں کرایہ پر لے کر گورکھ ہِل کی چوٹی تک جایا جاتا ہے۔ |
اکتوبر تا اپریل (سردیوں میں رات کا درجہ حرارت منفی ۲ سے ۵ ڈگری تک گر جاتا ہے) |
کوائف و تصاویر ↗
|
|
🏔️ وادیٔ سون سکیسر
|
ضلع خوشاب، پنجاب (براستہ کلر کہار موٹروے M-2 یا جوہرآباد سرگودھا روڈ) |
۷۶۲ میٹر (وادی کا فرش) تا ۱,۵۲۷ میٹر (سکیسر چوٹی ۵,۰۱۰ فٹ) |
اسلام آباد یا لاہور سے موٹروے M-2 پر سفر کریں اور "کلر کہار انٹرچینج" سے اتریں؛ وہاں سے بوچھال کلاں روڈ کے ذریعے ایک گھنٹے کے پختہ اور خوبصورت پہاڑی سفر کے بعد وادیٔ سون اور نوشہرہ کا مرکزی قصبہ سامنے آ جاتا ہے۔ |
اکتوبر تا اپریل (موسمِ سرما میں ہجرتی پرندوں کا بسیرا، خوشگوار دھوپ اور جھیلیں) |
کوائف و تصاویر ↗
|