شاعری ہب / نظم / دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

Deep Jis ka Mehlaat hi mein Jale

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

تم نے لوٹا ہے صدیوں سے دہقان کو

تم نے بیچا ہے بازار میں انسان کو

ایسے رہبر کو ایسے نگہبان کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

Dip Jis ka Mahallaat hi mein jley

Chand Logon ki Khushiyon ko le kar chale

Woh jo sae mein Har mslht ke pley

Aise dastur ko Subh-e be Noor ko

Mein nahin manta mein nahin manta

Tum Ne Lota hai Sadiyon se dahqan ko

Tum Ne bicha hai bazaar mein insan ko

Aise rahbar ko aise nghban ko

Mein nahin manta mein nahin manta

نظم
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے