شاعری ہب / غزل / تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

Tum se Pehle Woh Jo Ek Shakhs Yahan Takht-Nasheen Tha

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا

اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

کوئی ٹھہرا ہو جو وقت کی گردش کے مقابل

وہ بھی رخصت ہوا جو صاحبِ اورنگ و نگیں تھا

ہم نے دیکھے ہیں سلاطین کے مزاروں پہ اندھیرے

جن کے ایوان کا ہر گوشہ فلک کا ہم نشیں تھا

جالبؔ اس دور کے فرعون بھی مٹ جائیں گے اک دن

کل بھی حق زندہ تھا اور آج بھی سچ نکتہ چیں تھا

Tum Se Pehle Woh Jo Ik Shakhs Yahan Takht-Nasheen Tha

Us Ko Bhi Apne Khuda Hone Pe Itna Hi Yaqeen Tha

Koi Thahra Ho Jo Waqt Ki Gardish Ke Muqabil

Woh Bhi Rukhsat Hua Jo Sahib-e-Aurang-o-Nageen Tha

Hum Ne Dekhe Hain Salaateen Ke Mazaron Pe Andhere

Jin Ke Aiwaan Ka Har Gosha Falak Ka Ham-Nasheen Tha

غزل
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے