شاعری ہب / غزل / دل کی بات لبوں پہ لا کر اب پچھتائیں کیا

دل کی بات لبوں پہ لا کر اب پچھتائیں کیا

Dil ki Baat Labon pe La Kar Ab Pachtayein Kya

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دل کی بات لبوں پہ لا کر اب پچھتائیں کیا

حق کی راہ پہ چل کے اب شرمائیں کیا

وہ جو کہتے ہیں کہ خاموش رہو تم لوگو

ان کی باتوں میں آ کر اب گھبرائیں کیا

جالبؔ آزادی کی صبح تو آئے گی ضرور

اب اس اندھیرے میں خود کو جلائیں کیا

Dil Ki Baat Labon Pe La Kar Ab Pachtayein Kya

Haq Ki Raah Pe Chal Ke Ab Sharmaayein Kya

Woh Jo Kehte Hain Ke Khamosh Raho Tum Logo

Un Ki Baaton Mein Aa Kar Ab Ghabrayein Kya

غزل
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے