⚓ سی پیک فلیگ شپ ڈوزیئر: گوادر ڈیپ سی پورٹ و اسمارٹ سٹی 2026

گوادر ڈیپ سی پورٹ، نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ (NGIA) اور ۲۲۰۰ ایکڑ فری زون کا مکمل پالیسی و آپریشنل جائزہ

بحرِ ہند کے گرم پانیوں پر واقع قدرتی گہری ترین بندرگاہ، مالاکا اسٹریٹ کا متبادل تجارتی کوریڈور، کیٹیگری 4F ایئرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے اور پینے کے صاف پانی کے ڈی سیلینیشن منصوبوں کے ۲۰۰٪ مستند حقائق۔

14.5 Meters قدرتی برتھنگ ڈرافٹ (50,000 DWT جہازوں کی گنجائش)
4,300 Acres نیو گوادر ایئرپورٹ (پاکستان کا سب سے وسیع ایئرپورٹ)
19 KM ایسٹ بے ایکسپریس وے (6-لین پورٹ کنیکٹیویٹی)
2,281 Acres گوادر فری زون فیز-۱ اور فیز-۲ کا مجموعی رقبہ

✈️ نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ (NGIA): پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور جدید ترین ایئرپورٹ

چینی حکومت کی 240 ملین ڈالر کی 100% مفت گرانٹ سے تعمیر شدہ کیٹیگری 4F عالمی ایوی ایشن ہب
📸 مکمل کوائف و تصاویر دیکھیں ← باقاعدہ کمرشل پروازیں فعال (Active)

نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ (NGIA) سی پیک کا سب سے شاندار اور جدید ترین ایوی ایشن شاہکار ہے جو گوادر شہر سے 26 کلومیٹر شمال مشرق میں گراندانی (Gurandani) کے مقام پر 4,300 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ نہ صرف پاکستان کا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا ایئرپورٹ ہے، بلکہ اسلام آباد اور لاہور کے بعد ملک کا تیسرا بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے جس کو عالمی ایوی ایشن کی سب سے اعلیٰ کیٹیگری Category 4F کا درجہ حاصل ہے۔

اس ہوائی اڈے کا رن وے 3,650 میٹر طویل اور 75 میٹر چوڑا ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے تجارتی اور کارگو طیاروں بشمول Airbus A380 اور Boeing 747-8 کی بغیر کسی دشواری کے محفوظ ترین ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ایئرپورٹ کا باضابطہ مشترکہ افتتاح 14 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد میں وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے ایک پروقار تقریب میں کیا۔ ایئرپورٹ پر سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے مکمل کیلیبریشن اور رات کی پروازوں کے کامیاب ٹیسٹس کے بعد 20 جنوری 2025 سے باقاعدہ کمرشل فلائٹ آپریشنز کا آغاز ہو چکا ہے۔

"نیو گوادر ایئرپورٹ کسی قرضے پر نہیں بلکہ چینی حکومت کی طرف سے پاکستانی عوام کے لیے 240 ملین ڈالر کی خالص مفت گرانٹ (Grant-in-Aid) ہے۔"

ایئرپورٹ کو پائیدار بنیادوں پر چلانے کے لیے ایک جدید ائیر ٹریفک کنٹرول (ATC) ٹاور، پی اے بی ایکس ریڈار سسٹمز، جدید کارگو شیڈز، اور ڈائریکٹ ایکسپریس وے کنیکٹیویٹی فراہم کی گئی ہے جو مسافروں اور تجارتی کارگو کو براہِ راست گوادر پورٹ اور مکران کوسٹل ہائی وے تک تیز ترین رسائی دیتی ہے۔

نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ (NGIA) کی مصدقہ تکنیکی تفصیلات

مآخذ: سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) و سی پیک اتھارٹی
تکنیکی پیرامیٹر (Parameter) سرکاری تفصیل و اعداد و شمار عالمی معیار / مطابقت اسٹریٹجک فائدہ
کل رقبہ (Total Area) 4,300 ایکڑ (1,740 ہیکٹر) پاکستان کا سب سے بڑا ایئرپورٹ مستقبل کے 50 سالہ تجارتی و کارگو پھیلاؤ کی گنجائش
ایوی ایشن کوڈ و کیٹیگری Code 4F (Wide-body Compatible) Airbus A380, Boeing 777/747-8 دنیا کا کوئی بھی جدید اور وزنی ترین مسافر و مال بردار جہاز اتر سکتا ہے
رن وے کی لمبائی و چوڑائی 3,650 میٹر لمبائی × 75 میٹر چوڑائی ICAO Annex 14 اسٹینڈرڈ فل لوڈ کارگو کے ساتھ محفوظ ٹیک آف و لینڈنگ
فنڈنگ اور لاگت کا ماڈل $240 ملین (100% چائنیز گرانٹ) Zero Debt (کوئی قرض یا سود نہیں) پاکستان کے قومی خزانے پر کسی قسم کا بوجھ نہیں
پیسنجر ٹرمینل بلڈنگ 14,000 مربع میٹر جدید ٹرمینل سالانہ 5 لاکھ مسافر ابتدائی گنجائش بین الاقوامی کسٹم، امیگریشن اور بزنس لاؤنجز

🌊 گوادر ڈیپ سی پورٹ: برتھنگ گنجائش، ڈریجنگ اور کارگو ٹرمینل لیجر

قدرتی گہرے پانیوں کی برتھس، چین کے لیے 10,000 کلومیٹر کا شارٹ کٹ اور خطے کا لاجسٹک مرکز

گوادر بندرگاہ دنیا کی چند گنتی کی قدرتی گہرے پانیوں والی بندرگاہوں (Warm-water Natural Deep Sea Ports) میں شمار ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز کے دہانے پر خلیجِ فارس اور بحیرہ عرب کے سنگم پر واقع یہ بندرگاہ دنیا کے 40% خام تیل کے سمندری راستے کی چوکیداری کرتی ہے۔

روایتی طور پر چین کی مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ سے ہونے والی تمام تر تیل اور اشیاء کی تجارت 12,000 کلومیٹر طویل بحری راستے سے آبنائے ملائکہ (Strait of Malacca) کے تنگ دہانے سے گزرتی ہے جس میں 45 دن لگتے ہیں۔ گوادر کے ذریعے یہ فاصلہ سمٹ کر محض 2,500 کلومیٹر زمینی کوریڈور میں تبدیل ہو جاتا ہے جس سے سفری وقت 10 دن سے بھی کم رہ جاتا ہے۔

پورٹ کو چلانے کے لیے چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی (COPHC) کے پاس 40 سالہ رعایتی کنٹریکٹ ہے جس نے پورٹ کے فیز-۱ میں 3 ملٹی پرپز برتھس (602 میٹر طویل کوئے وال) کو مکمل جدید بنا دیا ہے۔ پورٹ کا نیویگیشن چینل 14.5 میٹر گہرا ہے جہاں 50,000 ٹن وزنی بلک کیریئر اور کنٹینر جہاز باآسانی لنگر انداز ہو رہے ہیں۔

پورٹ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ، یوریا، گندم اور ایل این جی کی ترسیل کے بعد اب باقاعدہ فائیو اسٹار شپنگ لائنز کے فیڈر جہاز گوادر سے کراچی، جبل علی (دبئی) اور چینی بندرگاہوں کے لیے کارگو سنبھال رہے ہیں۔

گوادر پورٹ کے آپریشنل و انڈسٹریل انفراسٹرکچر کا جامع لیجر

مستند اعداد و شمار برائے 2026
منصوبہ / جزو صلاحیت و تکنیکی تفصیل لاگت و فنڈنگ ماڈل موجودہ آپریشنل حیثیت
🌊 ڈیپ سی برتھس (1 تا 3) [تفصیلات و تصاویر ↗] 602 میٹر لمبائی، 14.5 میٹر نیویگیشن ڈرافٹ $248 ملین (FDI) مکمل و آپریشنل
🛣️ ایسٹ بے ایکسپریس وے (Eastbay) [تفصیلات و تصاویر ↗] 19 کلومیٹر طویل 6-لین ڈیویڈڈ ہائی وے (پورٹ تا مکران ہائی وے) $168 ملین (چینی حکومت گرانٹ + قرض) مکمل و ہیوی ٹریفک فعال
🏭 گوادر فری زون فیز-۱ (North) [تفصیلات و تصاویر ↗] 60 ایکڑ رقبہ، 46 کمرشل و انڈسٹریل یونٹس رجسٹرڈ $150 ملین نجی سرمایہ کاری 100% مکمل و آباد
🏗️ گوادر فری زون فیز-۲ (Gurandani) [تفصیلات و تصاویر ↗] 2,221 ایکڑ وسیع میگا انڈسٹریل مینوفیکچرنگ پارک $1.2 ارب متوقع کیپٹل انویسٹمنٹ بنیادی ڈھانچہ زیرِ تعمیر
💧 سی واٹر ڈی سیلینیشن پلانٹس [تفصیلات و تصاویر ↗] یومیہ 1.2 ملین گیلن + 5 ملین گیلن میٹھے پانی کی پیداوار 2.1 ارب روپے (چینی گرانٹ) پانی کی فراہمی جاری
🏥 پاک چین فرینڈشپ ہسپتال [تفصیلات و تصاویر ↗] 150 بستروں کا اسٹیٹ آف دی آرٹ جنرل و ایمرجنسی ہسپتال $100 ملین (100% چینی گرانٹ) شہریوں کے لیے فعال
🎓 پاک چین ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ [تفصیلات و تصاویر ↗] میرین، لاجسٹکس، آئی ٹی اور کرین آپریشنز کی فنی تربیت 1.8 ارب روپے (چینی گرانٹ) کلاسز اور ڈگریز جاری
⚡ 300 میگاواٹ گوادر کول/سولر پاور [تفصیلات و تصاویر ↗] گوادر شہر اور پورٹ کے لیے بلاتعطل بیس لوڈ بجلی $400 ملین (IPP فریم ورک) تیزی سے زیرِ تکمیل

🏙️ گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان 2050 کا وژن

دبئی اور شنگھائی کی طرز پر پائیدار شہری منصوبہ بندی اور ماحولیاتی تحفظ

1. ڈیجیٹل اسمارٹ سٹی گرڈ

فائبر ٹو دی ہوم، خودکار ٹریفک مانیٹرنگ، اسمارٹ واٹر میٹرنگ اور کیمروں پر مبنی محفوظ ترین سیف سٹی پروجیکٹ۔

2. ایکولوجیکل گرین بیلٹ

سمندری کٹاؤ کو روکنے کے لیے مینگرووز کے جنگلات کا تحفظ، ساحلی تفریحی پارکس اور صحرائی ہوائیں روکنے کے لیے گرین بفر زونز۔

3. زیرو ٹیکس اسپیشل اکنامک زون

فری زون کے سرمایہ کاروں کو 23 سالہ ٹیکس چھوٹ، 100% فارن اونرشپ، کسٹم ڈیوٹی کے بغیر خام مال کی امپورٹ اور ری ایکسپورٹ کی اجازت۔

4. انٹرنیشنل فنانشل ڈسٹرکٹ

مستقبل میں بین الاقوامی بینکوں، شپنگ ہاؤسز، اور آف شور مالیاتی اداروں کے لیے مخصوص فنانشل سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ (CBD)۔