شاعری ہب / نظم / مشیر (حبیب جالب کی مشہور نظم)

مشیر (حبیب جالب کی مشہور نظم)

Musheer Nazm Habib Jalib

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کہتے ہیں مجھ سے مشیرِ خاص

صاحبِ اقتدار کے پاس جاؤ

جھک کے کرو تم ان کو سلام

ان کے قصیدے پڑھتے جاؤ

میں نے کہا کہ مر جاؤں گا

پر نہ کروں گا کاسہ لیسی

حق کی صدا بلند رہے گی

چاہے ستم کی رات رہے!

Kehte Hain Mujh Se Musheer-e-Khaas

Sahib-e-Iqtidaar Ke Paas Jao

Jhuk Ke Karo Tum Un Ko Salaam

Un Ke Qaseede Padhte Jao

Main Ne Kaha Ke Mar Jaoon Ga

Par Na Karoon Ga Kaasa-Leesi!

نظم
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے