حق کی آواز دبانے سے کبھی دبتی نہیں
Haq ki Awaaz Dabaane se
حق کی آواز دبانے سے کبھی دبتی نہیں
جبر کے سامنے سر کبھی جھکتا نہیں
تم نے سو بار بند کی ہیں زبانیں لیکن
خونِ دل بولتا ہے وہ تو رکتا نہیں
اہلِ ایوان کو مغرور نہ ہونا چاہیے
وقت کا دھارا کبھی کسی کا ہوتا نہیں
جو گراتے ہیں بجلی غریب کے آشیاں پر
ان کا اپنا بھی نشیمن کبھی بچتا نہیں
جالبؔ عوامی نغمہ خواں ہے سدا
اس کا نغمہ سرِ بازار کبھی بکتا نہیں
Haq ki Aawaaz dbaney se kabhi dbti nahin
Jbr ke saamne sar kabhi jhkta nahin
Tum Ne Sau Baar Band ki hain Zabanen Lekin
Khoon-e Dil bolta hai woh to rkta nahin
Ahl-e aivan ko mghror na hona Chahiye
Waqt ka dhara kabhi kisi ka hota nahin
Jo gratey hain bijli ghareeb ke aashian par
Un ka Apna bhi nshimn kabhi bchta nahin
Jalb avami naghma khoan hai sada
Is ka naghma sar-e bazaar kabhi bkta nahin
حبیب جالب
حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...
