شاعری ہب / غزل / حق کی آواز دبانے سے کبھی دبتی نہیں

حق کی آواز دبانے سے کبھی دبتی نہیں

Haq ki Awaaz Dabaane se

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

حق کی آواز دبانے سے کبھی دبتی نہیں

جبر کے سامنے سر کبھی جھکتا نہیں

تم نے سو بار بند کی ہیں زبانیں لیکن

خونِ دل بولتا ہے وہ تو رکتا نہیں

اہلِ ایوان کو مغرور نہ ہونا چاہیے

وقت کا دھارا کبھی کسی کا ہوتا نہیں

جو گراتے ہیں بجلی غریب کے آشیاں پر

ان کا اپنا بھی نشیمن کبھی بچتا نہیں

جالبؔ عوامی نغمہ خواں ہے سدا

اس کا نغمہ سرِ بازار کبھی بکتا نہیں

Haq ki Aawaaz dbaney se kabhi dbti nahin

Jbr ke saamne sar kabhi jhkta nahin

Tum Ne Sau Baar Band ki hain Zabanen Lekin

Khoon-e Dil bolta hai woh to rkta nahin

Ahl-e aivan ko mghror na hona Chahiye

Waqt ka dhara kabhi kisi ka hota nahin

Jo gratey hain bijli ghareeb ke aashian par

Un ka Apna bhi nshimn kabhi bchta nahin

Jalb avami naghma khoan hai sada

Is ka naghma sar-e bazaar kabhi bkta nahin

غزل
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے