شاعری ہب / نظم / قحطِ رجال

قحطِ رجال

Qahat-e-Rijaal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ دیش ہے اندھے لوگوں کا

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

نہ جلووں کی نہ نور کی قدر

نہ سچ کے کسی شعور کی قدر

یہاں جھوٹ کے اونچے محل بنے

اور سچے سارے قید ہوئے

جالبؔ اس بستی کے سناٹوں میں

ماتم ہے فقط بے باکوں کا

Yeh desh hai Andhe Logon ka

Aey Chaand yahan na nkla kar

Na Jalwon ki na Noor ki qadr

Na sach ke kisi shuur ki qadr

Yahan Jhoot ke aonchey mahal bane

Aur Sache Sare Qaid hue

Jalb Is basti ke snaton mein

Matam hai fqt be bakon ka

نظم
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے