شاعری ہب / غزل / سرِ مقتل کھڑے ہیں ہم بے خوف و خطر

سرِ مقتل کھڑے ہیں ہم بے خوف و خطر

Sar-e-Maqtal Khade Hain Hum

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

سرِ مقتل کھڑے ہیں ہم بے خوف و خطر

جان کی بازی لگا دیں گے وطن کے نام پر

نہ جھکے ہیں کبھی نہ جھکیں گے کبھی

سر کٹا دیں گے مگر سچ کے مقام پر

ظالم کے ایوان ہل جائیں گے کل

جب اٹھے گا غریب اپنے اکرام پر

ہم نے خونِ جگر سے سینچی ہے یہ زمیں

فخر ہے ہم کو اپنے اس انجام پر

جالبؔ مر کے بھی زندہ رہیں گے سدا

حق کا نغمہ لکھیں گے ہر اک شام پر

Sar-e maqtal Khare hain Hum be khauf-o-Khatar

Jaan ki bazi laga dein Ge vatan ke Naam par

Na jhuke hain kabhi na jhkin Ge kabhi

Sar kata dein Ge magar sach ke mqam par

Zalim ke aivan hal jaayein Ge kal

Jab athey Ga ghareeb Apne akram par

Hum Ne khoon-e jigar se sinchi hai yeh Zameen

Fakhr hai Hum ko Apne Is anjam par

Jalb Mar ke bhi zinda rhin Ge sada

Haq ka naghma lkhin Ge Har Ik Shaam par

غزل
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے