📜 پاکستان کی قدیم تہذیبیں: جب دنیا اندھیروں میں تھی، تب سندھ و گندھارا میں علم و ہنر کا راج تھا
موہنجوداڑو کے شطرنج نما شہر، ٹیکسلا کی پہلی بین الاقوامی یونیورسٹی اور تخت بھائی کا بودھ دارالعلومپاکستان کی سرزمین صرف قدرتی حسن سے مالا مال نہیں بلکہ انسانی تہذیب، شعور اور شہری ارتقا کی اولین جنم بھومیوں میں سے ایک ہے۔ دریائے سندھ کی زرخیز وادیوں میں ۲۵۰۰ قبل مسیح میں پروان چڑھنے والی "وادیٔ سندھ کی تہذیب" (Indus Valley Civilization) اپنے دور کی سب سے بڑی اور سب سے ترقی یافتہ شہری ریاست تھی۔ لاڑکانہ کے قریب واقع "موہنجوداڑو" اس تہذیب کا سب سے شاندار مرکز تھا جہاں پختہ اینٹوں کے منظم کثیر منزلہ مکانات، کشادہ راستے، پبلک باتھ (Great Bath) اور دنیا کا اولین ڈھکا ہوا زیر زمین سیوریج سسٹم موجود تھا جس کی نظیر ہم عصر میسوپوٹیمیا یا مصر میں بھی نہیں ملتی۔
موہنجوداڑو کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اتنے وسیع اور خوشحال شہر میں کوئی شاہی محل، عسکری بیرکیں یا جارحانہ ہتھیار نہیں ملے۔ یہ دنیا کی واحد قدیم تہذیب تھی جو جنگ و جدل کے بجائے تجارت، امن، صفائی اور شہریوں کے مساوی فلاحی حقوق کی بنیاد پر قائم تھی۔ ناپ تول کے معیاری اوزان اور روئی کی کاشت و پارچہ بافی کی ابتدا بھی اسی خطے سے ہوئی تھی۔
پہلی صدی قبل مسیح کے بعد پاکستان کا خطہ گندھارا تہذیب کا مرکز بنا جس کا دارالحکومت راولپنڈی کے قریب "ٹیکسلا" تھا، جبکہ مردان کے بلند پہاڑ پر واقع "تخت بھائی" بدھ مت کی خانقاہ کا عظیم الشان قلعہ تھا۔ ٹیکسلا کو دنیا کی اولین بین الاقوامی یونیورسٹی کا اعزاز حاصل ہے جہاں یونان، چین، ایران اور وسطی ایشیا کے طالب علم طب، فلکیات، فلسفہ اور قانون پڑھنے آتے تھے۔ گندھارا آرٹ نے بدھ مت کے فلسفے کو یونانی مجسمہ سازی کے ساتھ ملا کر ایک نیا کلاسک روپ بخشا جس کے نوادرات دنیا کے سب سے معتبر عجائب گھروں کی زینت ہیں۔
سندھ کے تاریخی شہر ٹھٹھہ میں واقع "مکلی کا قبرستان" دنیا کا سب سے بڑا مدفن ہے جہاں ۱۰ لاکھ سے زائد قبریں اور سلاطین و صوفیا کے مقابر واقع ہیں جن پر سندھی، گجراتی اور مغل طرز کے کاشی گری اور نقاشی کے نادر شاہکار آج بھی محققین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔
