پاکستان کے تمام اضلاع، حرمین شریفین، خلیجی ممالک اور یورپ و امریکہ کے تمام بڑے شہروں کے لیے مصدقہ یومیہ نماز کا شیڈول، فقہ حنفی، فقہ جعفریہ اور فقہ شافعی کے مطابق سحری و افطار کے اوقات، قبلہ رخ اور ۳۰ روزہ پرنٹ ایبل ماہانہ کیلنڈر۔
عرضِ بلد: 31.52° N · طولِ بلد: 74.36° E · ٹائم زون: UTC+5:00
⏰ مقامی وقت:--:--:--
🕌
اگلی باجماعت نماز و اذان:
ظہر
باقی ماندہ وقت:
00:00:00
اگلی نماز
🌙
فجر
Fajr (سحر)
--:--
سحری اختتام / طلوعِ فجر
طلوع
🌅
طلوعِ آفتاب
Sunrise (اشراق)
--:--
نمازِ فجر کا اختتام
اگلی نماز
☀️
ظہر
Dhuhr (نمازِ جمعہ)
--:--
زوالِ آفتاب کے فوراً بعد
اگلی نماز
🌤️
عصر
Asr (عصر)
--:--
مثلِ ثانی (حنفی)
اگلی نماز
🌇
مغرب
Maghrib (افطار)
--:--
غروبِ آفتاب و وقتِ افطار
اگلی نماز
🌌
عشاء
Isha (عشاء)
--:--
شفقِ احمر کے غائب ہونے پر
مستحب و مسنون اوقات (نوافل، سحری و افطار)
روزہ رکھنے اور تسبیح و تہجد کے لیے مفید شیڈول
🥣 سحری کا آخری وقت
--:--
احتیاطاً فجر سے ۱۰ منٹ قبل
🌅 نمازِ اشراق
--:--
طلوع کے ۱۵ منٹ بعد
☀️ نمازِ چاشت (ضحیٰ)
--:--
دن چڑھے کا مسنون وقت
⚠️ زوال کا مکروہ وقت
--:--
نصف النہار تا ظہر (سجدہ منع)
🌙 افطار کا وقت
--:--
مغرب کی اذان کے ساتھ
🌌 نمازِ تہجد
--:--
رات کے آخری تہائی حصے میں
🧭 قبلہ رخ اور فاصلہ (Qibla Direction & Compass)
شمال سے زاویہ:260°
سمت کا رخ:مغرب (West)
خانہ کعبہ کا فاصلہ:3,598 کلومیٹر
مقامِ کعبہ:مکہ مکرمہ، سعودی عرب
سوئی کا رخ شمال (شمالی قطب) سے گھڑی کی سمت میں مکہ مکرمہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ موبائل ڈیوائس کو سیدھا رکھ کر درست رخ متعین کریں۔
📖 فقہی مکاتبِ فکر کے بنیادی اصول
۱. فقہ حنفی: امام اعظم ابو حنیفہؒ کے مسلک کے مطابق نمازِ عصر کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ (سایہ اصلی کے علاوہ) اس کے دو گنا (مثلِ ثانی) ہو جائے۔ برصغیر پاک و ہند، بنگلہ دیش اور ترکیہ میں یہی معمول ہے۔
۲. فقہ جعفریہ (شیعہ): اس فقہ کے مطابق نمازِ مغرب کا وقت سورج غروب ہونے کے فوری بعد شروع نہیں ہوتا بلکہ مشرقی افق سے سرخی (حمرہ مشرقیہ) زائل ہونے پر شروع ہوتا ہے (عموماً غروب کے ۱۲ تا ۱۵ منٹ بعد)۔ عشاء کا وقت نصف اللیل شرعی تک رہتا ہے۔
۳. فقہ شافعی / حنبلی / مالکی: جمہور فقہاء کے نزدیک نمازِ عصر کا وقت ہر چیز کا سایہ ایک گنا (مثلِ اول) ہونے پر شروع ہوتا ہے۔ حرمین شریفین، عرب ممالک اور یورپ میں اس پر عمل کیا جاتا ہے۔
📅 ماہانہ نماز کیلنڈر — لاہور (ستمبر ۲۰۲۶ء)
پورے مہینے کا یومیہ مصدقہ شیڈول۔ پرنٹ بٹن دبا کر اے فور سائز پر محفوظ یا پرنٹ کریں۔
عیسوی تاریخ
اسلامی تاریخ
فجر (سحر)
طلوعِ آفتاب
ظہر
عصر
مغرب (افطار)
عشاء
🇵🇰 اہم ملکی و بین الاقوامی شہروں کے اوقاتِ نماز (آج کا موازنہ)
شہر
ملک
فجر
طلوع
ظہر
عصر
مغرب
عشاء
قبلہ رخ
نماز کی اہمیت، فضیلت اور شرعی مسائل کا مستند جائزہ
"سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نماز کو اس کے مقررہ وقت پر ادا کرنا۔"
— صحیح بخاری (حدیث: ۵۲۷)، صحیح مسلم (حدیث: ۸۵)
۱. اوقاتِ نماز کی شرعی حدود
قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا﴾ "بے شک نماز اہل ایمان پر مقررہ وقت پر فرض کی گئی ہے" (سورۃ النساء: ۱۰۳)۔ شریعتِ اسلامیہ میں دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ ہر نماز کا ایک مخصوص آغاز اور اختتام کا وقت ہے۔ وقت داخل ہونے سے پہلے نماز ادا کرنا درست نہیں ہوتا اور بلا عذر وقت گزار دینا گناہِ کبیرہ ہے۔
۲. اوقاتِ مکروہہ (وہ اوقات جن میں نماز پڑھنا منع ہے)
احادیثِ صحیحہ کے مطابق دن میں تین ایسے اوقات ہیں جن میں کوئی بھی فرض، واجب یا نفل نماز پڑھنا یا جنازہ ادا کرنا مکروہِ تحریمی (سخت ناپسندیدہ) ہے:
طلوعِ آفتاب کے وقت: جب سورج نکل رہا ہو، یہاں تک کہ وہ ایک نیزہ بلند ہو جائے (تقریباً طلوع کے ۱۵ منٹ بعد تک)۔
استواء / نصف النہار (زوال کا وقت): جب سورج بالکل سر کے اوپر ہو، یہاں تک کہ مغرب کی طرف ڈھلنے لگے (ظہر کے وقت کے آغاز سے تقریباً ۱۰ منٹ پہلے)۔
غروبِ آفتاب کے وقت: جب سورج زرد پڑ جائے اور ڈوبنے لگے، سوائے اسی دن کی نمازِ عصر کے اگر تاخیر ہو گئی ہو تو اسے بلا قضا غروب سے قبل پڑھ لیا جائے گا۔
۳. سفر کی حالت میں نمازِ قصر کے احکام
جب کوئی شخص اپنے شہر یا بستی کی حدود سے باہر تقریباً ۴۸ میل (تقریباً ۷۷.۵ کلومیٹر) یا اس سے زائد کے سفر کے ارادے سے روانہ ہو جائے، تو شرعاً وہ مسافر بن جاتا ہے۔ مسافر پر چار رکعت والے فرائض (ظہر، عصر اور عشاء) کو قصر کر کے دو رکعت پڑھنا واجب و سنت ہے۔ فجر اور مغرب میں کوئی قصر نہیں ہوتی۔ دورانِ سفر اگر کسی مقام پر ۱۵ دن یا اس سے زائد قیام کی نیت ہو جائے تو مسافر مقیم بن جائے گا اور پوری نماز ادا کرے گا۔
"رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچوں نمازیں اور جمعہ سے لے کر اگلے جمعہ تک، ان کے درمیان ہونے والے صغیرہ گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتے ہیں، بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔"
— صحیح مسلم (حدیث: ۲۳۳)
نماز کے اوقات کے متعلق عام سوالات و جوابات (FAQs)
کیا اس صفحے پر نماز کے اوقات خودکار طور پر روزانہ تبدیل ہوتے ہیں؟+
جی ہاں! اردو کوریج کا پریئر انجن علمِ فلکیات (Astronomical Solar Equations) پر مبنی ایک خودکار ریاضیاتی نظام کے تحت کام کرتا ہے۔ جیسے جیسے سال کے ۳۶۵ دنوں میں سورج کے طلوع و غروب اور زوال کے زاویے تبدیل ہوتے ہیں، تمام نمازوں، سحری اور افطار کے اوقات ہر روز خود بخود بالکل درست انداز میں اپ ڈیٹ ہو جاتے ہیں۔
فقہ حنفی اور فقہ شافعی میں نمازِ عصر کے وقت میں کیا فرق ہے؟+
فقہ حنفی کے مطابق عصر کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایہ سایہ اصلی کے علاوہ دو گنا ہو جائے (مثلِ ثانی)، جبکہ فقہ شافعی، مالکی اور حنبلی میں ایک گنا سایہ ہونے پر (مثلِ اول) عصر شروع ہو جاتی ہے۔ اس فرق کی وجہ سے عموماً شافعی عصر کا وقت حنفی وقت سے تقریباً ۴۵ منٹ سے ایک گھنٹہ پہلے داخل ہو جاتا ہے۔
فقہ جعفریہ میں مغرب کا وقت کس بنیاد پر مختلف ہوتا ہے؟+
فقہ جعفریہ میں سورج کی ٹکیہ چھپ جانے (غروبِ آفتاب) کے فوری بعد مغرب شروع نہیں ہوتی، بلکہ مشرقی افق پر جو سرخی نظر آتی ہے اس کے سر کے اوپر سے گزر جانے اور زائل ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے جسے 'حمرہ مشرقیہ' کہا جاتا ہے۔ اس میں عموماً سورج کے افق سے ۴.۲ تا ۴.۵ ڈگری نیچے جانے تک ۱۰ سے ۱۵ منٹ لگتے ہیں، لہٰذا شیعہ مسلک میں مغرب و افطار سنی وقت سے تقریباً ۱۲ تا ۱۵ منٹ بعد ہوتی ہے۔
سحری کا آخری وقت اور نمازِ فجر کی اذان میں کیا تعلق ہے؟+
شرعی طور پر جیسے ہی صبحِ صادق طلوع ہوتی ہے، سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے اور نمازِ فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ عام طور پر مساجد میں احتیاطاً فجر کے وقت سے چند منٹ قبل سائرن یا اعلان کیا جاتا ہے تاکہ روزہ فاسد نہ ہو، لیکن اصل میں فجر کا وقت شروع ہوتے ہی کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔
کسی نئے شہر میں قبلہ رخ کیسے تلاش کیا جائے؟+
اس پورٹل پر دیے گئے کمپاس سیکشن میں ہر شہر کے لیے خانہ کعبہ کا شمال سے قطعی ڈگری زاویہ (Degree from North) درج ہے۔ آپ اپنے موبائل کے ڈیجیٹل کمپاس کو کھول کر بتائے گئے ڈگری زاویے پر رخ کر کے قطعی قبلہ سمت معلوم کر سکتے ہیں۔