یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہوا کے
Ye Munsif bhi to Qaidi Hain Hawa ke
یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہوا کے
انہیں کیا دوش دیتے ہو سزا کے
یہ مقتل ہے یہاں سچ کی زباں پر
لگے ہیں قفل زنجیرِ جفا کے
ہمیں تو دار پر چڑھنا سکھایا
ہمارے رہنماؤں نے وفا کے
جالبؔ حق کی صدا خاموش نہ ہوگی
جلائیں گے دیے ہم کربلا کے
Yeh Munsif Bhi To Qaidi Hain Hawa Ke
Unhein Kya Dosh Dete Ho Saza Ke
Yeh Maqtal Hai Yahan Sach Ki Zabaan Par
Lage Hain Qufl Zanjeer-e-Jafa Ke
Humein To Daar Par Chadhna Sikhaya
Hamare Rehnumaon Ne Wafa Ke
غزل
تعارفِ شاعر
حبیب جالب
حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...
