شاعری ہب / غزل / یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہوا کے

یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہوا کے

Ye Munsif bhi to Qaidi Hain Hawa ke

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہوا کے

انہیں کیا دوش دیتے ہو سزا کے

یہ مقتل ہے یہاں سچ کی زباں پر

لگے ہیں قفل زنجیرِ جفا کے

ہمیں تو دار پر چڑھنا سکھایا

ہمارے رہنماؤں نے وفا کے

جالبؔ حق کی صدا خاموش نہ ہوگی

جلائیں گے دیے ہم کربلا کے

Yeh Munsif Bhi To Qaidi Hain Hawa Ke

Unhein Kya Dosh Dete Ho Saza Ke

Yeh Maqtal Hai Yahan Sach Ki Zabaan Par

Lage Hain Qufl Zanjeer-e-Jafa Ke

Humein To Daar Par Chadhna Sikhaya

Hamare Rehnumaon Ne Wafa Ke

غزل
Comment
حبیب جالب
تعارفِ شاعر

حبیب جالب

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 24 مارچ 1928 — 23 مارچ 1993 📍 ہوشیارپور / لاہور، پاکستان

حبیب احمد المعروف حبیب جالب (24 مارچ 1928ء – 23 مارچ 1993ء) پاکستان کے سب سے مقبول، بے باک، نڈر اور انقلابی عوامی شاعر تھے۔ آپ ہوشیارپور (بھارت) میں پیدا ہوئے اور قیامِ پاکستان کے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے