تصوف و روحانی کلام
تصوف و روحانی کلام
Sufism & Mysticism Poetry 497 کلام
عشقِ حقیقی، معرفتِ الٰہی، قلندرانہ شان اور روح کی بالیدگی
جاتری ہوں نگر نگر گھومتا چلا جاؤں گا
اور اپنی دھن میں سچائی کے گیت گاتا جاؤں گا!
سفر ہے شرط مسافر نواز بہرے ہیں
ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہیں!
خواجہ حیدر علی آتش
Classical
طیفِ حرم کے جلوؤں سے دل منور ہے
اور معرفت کی روشنی سے روح مطہر ہے!
اختر شیرانی
Classical
پیدا شعاعِ مہر کی مانند جب ہوا
روشن جہاں میں نورِ ہدایت کا رخ ہوا!
مرزا سلامت علی دبیر
Classical
اے چاند کربلا کے تجھے دیکھ کر جئیں
غم کے اندھیروں میں ترے نور سے جئیں!
مرزا سلامت علی دبیر
Classical
ہر سانس میں ذکرِ علیؑ و حسینؑ ہے
دل میں سجی ہوئی یہ بہارِ یقین ہے!
مرزا سلامت علی دبیر
Classical
تیغِ علیؑ چلی جو صفِ کارزار میں
تو تھرا اٹھے ستم گر اس کارزار میں!
مرزا سلامت علی دبیر
Classical
کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رستم کا جگر، سام کا تن کانپ رہا ہے!
مرزا سلامت علی دبیر
Classical
دستِ خدا کا شیر ہے عباسِ باوفاؑ
جس کے علم کے سائے میں اسلام ہے کھلا!
مرزا سلامت علی دبیر
Classical
ہر چند کہ دنیائے فنا مہمان ہے
پر شکرِ خدا کہ دل میں ایمان ہے!
میر ببر علی انیس
Classical
ہم شکلِ پیمبرؐ جب چلے رخصت ہو کے رن کو
تو تھام لیا دستِ مبارک سے کلیجے کو شاہ نے!
میر ببر علی انیس
Classical
نمکِ خوانِ تکلم ہے فصاحت میری
نطق کو بندہ کرتی ہے بلاغت میری!
میر ببر علی انیس
Classical
