شاعری ہب / نظم / طیفِ حرم

طیفِ حرم

Taif-e-Haram Nazm Akhtar Shirani

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

طیفِ حرم کے جلوؤں سے دل منور ہے

اور معرفت کی روشنی سے روح مطہر ہے!

ہم نے تو حسنِ حقیقی کو دیکھا ہے سدا

جہاں عشق ہی دونوں جہاں کا سب سے بڑا گوہر ہے!

اخترؔ تصوف اور رومان کا یہ حسیں سنگم

جو ہر صاحبِ نظر کے لیے معتبر ہے!

Taif-e-Haram Ke Jalwon Se Dil Munawwar Hai

Aur Marifat Ki Roshni Se Rooh Mutahhar Hai!

Hum Ne To Husn-e-Haqeeqi Ko Dekha Hai Sada

Jahan Ishq Hi Donon Jahan Ka Sab Se Bada Gauhar Hai!

نظم Urdu
Comment
اختر شیرانی
تعارفِ شاعر

اختر شیرانی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 4 مئی 1905 — 9 ستمبر 1948 📍 ٹونک (راجستھان) / لاہور، پاکستان

محمد داؤد خان المعروف اخترؔ شیرانی (4 مئی 1905ء – 9 ستمبر 1948ء) اردو شاعری میں رومانوی تحریک کے سب سے عظیم سرخیل، مصورِ حسن و شباب اور 'شہنشاہِ رومان' مانے جاتے ہیں۔ آپ ٹونک...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے