میرا جی
Miraji
Classical
25 مئی 1912-3 نومبر 1949
لاہور / دہلی / ممبئی, پاکستان / ہندوستان
ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism) اور جدید آزاد نظم کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ لاہور میں پیدا ہوئے۔ ایک بنگالی لڑکی 'میرا سین' کے یک طرفہ عشق میں مبتلا ہو کر انہوں نے اپنا نام 'میرا جی' اختیار کیا اور ساری زندگی فقیرانہ حالت میں گزاری۔ میرا جی 'حلقۂ اربابِ ذوق' کے روحِ رواں رہے اور معروف ادبی رسالے 'ادبی دنیا' لاہور اور 'خیال' بمبئی کی ادارت کی۔ ان کی شاعری میں ہندی گیتوں کی مٹھاس، مشرقی تصوف اور مغربی علامت نگاری و فرائیڈ کے نفسیاتی نظریات کا ایسا منفرد امتزاج ہے جو پورے اردو ادب میں اپنی مثال آپ ہے۔ ان کی شاہکار نظموں میں 'سمندر کا بلاوا'، 'جاتری'، 'رس کی انوکھی بوندیں' اور 'مشرق و مغرب کے نغمے' شامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں 'میرا جی کے گیت'، 'میرا جی کی نظمیں' اور 'تین رنگ' شامل ہیں۔ آپ کا مزار میرین لائنز، ممبئی میں ہے۔
دل کے چمن میں پھول کھلے ہیں درد کے میراؔ جی
جن کی خوشبو سے سارا باطن مہک اٹھا ہے سدا
Dil Ke Chaman Mein Phool Khile Hain Dard Ke Miraji
Jin Ki Khushboo Se Saara Baatin Mehak Utha Hai Sada
ہم نے ہر دور میں دل کو ترسایا ہے میراؔ جی
محبت کے بدلے میں فقط تنہائی پائی ہے سدا
Hum Ne Har Daur Mein Dil Ko Tarsaaya Hai Miraji
Mohabbat Ke Badle Mein Faqat Tanhaayi Paayi Hai Sada
یہ زندگی اک خواب ہے اک دھوکا ہے سدا
جہاں ہر لمحہ نیا سراب سجایا جاتا ہے
Yeh Zindagi Ik Khwab Hai Ik Dhokha Hai Sada
Jahan Har Lamha Naya Saraab Sajaya Jaata Hai
رات کے سناٹے میں بکھری ہے تیری یاد
جیسے ویران مندر میں بجتی ہو گھنٹی
Raat Ke Sannaate Mein Bikhri Hai Teri Yaad
Jaise Weeraan Mandir Mein Bajti Ho Ghanti
تنہا سفر کی راہ میں ہم چلتے رہے سدا
نہ کوئی ہمسفر ملا نہ کوئی کارواں ملا
Tanha Safar Ki Raah Mein Hum Chalte Rahe Sada
Na Koi Hum-Safar Mila Na Koi Kaarwaan Mila
گہرے نیلے سمندر کی گود سے آتی ہے صدا
آ کہ میں تری روح کے پیاسے پن کو مٹا دوں
Gehre Neele Samundar Ki God Se Aati Hai Sada
Aa Ke Main Teri Rooh Ke Pyaase-Pan Ko Mita Doon
پریت کی ریت نرالی ہے ساجن
جس نے پایا اس نے کھویا سارا جیون
Preet Ki Reet Nirali Hai Saajan
Jis Ne Paaya Us Ne Khoya Saara Jeewan
جاتری ہوں نگر نگر گھومتا چلا جاؤں گا
اور اپنی دھن میں سچائی کے گیت گاتا جاؤں گا
Jatry Hoon Nagar Nagar Ghoomta Chala Jaoonga
Aur Apni Dhun Mein Sacchayi Ke Geet Gaata Jaoonga
