شاعری ہب / نظم / فقر و قناعت

فقر و قناعت

Faqr-o-Qanaat Nazm Aatish

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

سفر ہے شرط مسافر نواز بہرے ہیں

ہزار ہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہیں!

فقر کی چادر ہی سب سے بڑا شاہی لباس ہے

جہاں قناعت کے گوہر ہر نگاہ میں ہیں!

آتشؔ توکل اور شکر ہی اصل سرمایہ ہے

جو دونوں جہاں کی سب سے بڑی پناہ میں ہیں!

Safar Hai Shart Musafir-Nawaaz Bahre Hain

Hazaar-haa Shajar-e-Saaya-Daar Raah Mein Hain!

Faqr Ki Chaadar Hi Sab Se Bada Shaahi Libaas Hai

Jahan Qanaat Ke Gauhar Har Nigaah Mein Hain!

نظم Urdu
Comment
خواجہ حیدر علی آتش
تعارفِ شاعر

خواجہ حیدر علی آتش

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1778 — 1846 📍 فیض آباد / لکھنؤ، ہندوستان

خواجہ حیدر علی آتشؔ (1778ء – 1846ء) دبستانِ لکھنؤ کے سب سے عظیم غزل گو، قلندر صفت استادِ سخن اور 'مرصع سازِ کلام' مانے جاتے ہیں۔ آپ فیض آباد (اودھ، بھارت) میں پیدا ہوئے اور...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے