خواجہ حیدر علی آتش

Khwaja Haider Ali Aatish

Classical
1778-1846 فیض آباد / لکھنؤ, ہندوستان
خواجہ حیدر علی آتشؔ (1778ء – 1846ء) دبستانِ لکھنؤ کے سب سے عظیم غزل گو، قلندر صفت استادِ سخن اور 'مرصع سازِ کلام' مانے جاتے ہیں۔ آپ فیض آباد (اودھ، بھارت) میں پیدا ہوئے اور بعد میں لکھنؤ میں مستقل سکونت اختیار کی۔ آتش نے غلام ہمدانی مصحفیؔ سے تربیت حاصل کی اور شیخ امام بخش ناسخؔ کے مقابلے میں لکھنؤ کے ادبی افق پر غزل کا پرچم بلند رکھا۔ آتش کی شاعری میں دہلی کا تصوف و جذبات نگاری اور لکھنؤ کی نفاست و مرصع سازی کا بے مثل ملاپ ہے۔ ان کی شہرۂ آفاق غزل 'یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے / ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے' اور 'دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے / کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے' اور 'سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا' اردو کلاسیکی ادب کے عظیم شاہکار ہیں۔ آپ کی تصانیف میں دو دیوانوں پر مشتمل 'کلیاتِ آتش' شامل ہے۔ آپ کا مزار مفتی گنج، لکھنؤ میں واقع ہے۔
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا جو چیرا تو اک قطرہِ خوں نہ نکلا
Bada Shor Sunte The Pehloo Mein Dil Ka Jo Cheera To Ik Qatra-e-Khoon Na Nikla
تفصیل دیکھیں »
نہ گورِ سکندر نہ ہے قبرِ دارا مٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے
Na Gor-e-Sikandar Na Hai Qabr-e-Daara Mite Naamiyon Ke Nishaan Kaise Kaise
تفصیل دیکھیں »
سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا
Sun To Sahi Jahan Mein Hai Tera Fasana Kya Kehti Hai Tujh Ko Khalq-e-Khuda Ghaibana Kya
تفصیل دیکھیں »
آئے بھی لوگ، بیٹھے بھی، اٹھ بھی کھڑے ہوئے میں جا ہی ڈھونڈتا تری محفل میں رہ گیا
Aaye Bhi Log, Baithe Bhi, Uth Bhi Khade Hue Main Jaa Hi Dhoondta Teri Mehfil Mein Reh Gaya
تفصیل دیکھیں »
بندشِ الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں شاعری بھی کام ہے آتشؔ مرصع ساز کا
Bandish-e-Alfaaz Judne Se Nigon Ke Kam Nahin Shaaeri Bhi Kaam Hai Aatish Murassa-Saaz Ka
تفصیل دیکھیں »
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے ہم اور بلبلِ بے تاب گفتگو کرتے
Yeh Aarzoo Thi Tujhe Gul Ke Roo-ba-Roo Karte Hum Aur Bulbul-e-Be-Taab Guftagu Karte
تفصیل دیکھیں »
دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے
Dahan Par Hain Un Ke Gumaan Kaise Kaise Kalaam Aate Hain Darmiyaan Kaise Kaise
تفصیل دیکھیں »
زمینِ چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
Zameen-e-Chaman Gul Khilaati Hai Kya Kya Badalta Hai Rang Aasmaan Kaise Kaise
تفصیل دیکھیں »