شاعری ہب / نظم / جاتری (دیس بدیس گھومتا مسافر)

جاتری (دیس بدیس گھومتا مسافر)

Jatry Nazm Miraji Lahore

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

جاتری ہوں نگر نگر گھومتا چلا جاؤں گا

اور اپنی دھن میں سچائی کے گیت گاتا جاؤں گا!

نہ کوئی منزل ہے نہ کوئی ٹھکانا میرا

بس چلتے جانا ہی ہے فسانہ میرا!

میراؔ جی قلندرانہ فقر کا یہ سفر بڑا پرسکون ہے

جہاں دل ہی سب سے بڑا آستانہ ہے!

Jatry Hoon Nagar Nagar Ghoomta Chala Jaoonga

Aur Apni Dhun Mein Sacchayi Ke Geet Gaata Jaoonga!

Na Koi Manzil Hai Na Koi Thikana Mera

Bas Chalte Jaana Hi Hai Fasaana Mera!

نظم Urdu
Comment
میرا جی
تعارفِ شاعر

میرا جی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1912 — 3 نومبر 1949 📍 لاہور / دہلی / ممبئی، پاکستان / ہندوستان

ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے