جاتری (دیس بدیس گھومتا مسافر)
Jatry Nazm Miraji Lahore
جاتری ہوں نگر نگر گھومتا چلا جاؤں گا
اور اپنی دھن میں سچائی کے گیت گاتا جاؤں گا!
نہ کوئی منزل ہے نہ کوئی ٹھکانا میرا
بس چلتے جانا ہی ہے فسانہ میرا!
میراؔ جی قلندرانہ فقر کا یہ سفر بڑا پرسکون ہے
جہاں دل ہی سب سے بڑا آستانہ ہے!
Jatry Hoon Nagar Nagar Ghoomta Chala Jaoonga
Aur Apni Dhun Mein Sacchayi Ke Geet Gaata Jaoonga!
Na Koi Manzil Hai Na Koi Thikana Mera
Bas Chalte Jaana Hi Hai Fasaana Mera!
نظم
Urdu
تعارفِ شاعر
میرا جی
ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...
