بارش و برسات شاعری
بارش و برسات شاعری
Rain & Monsoon Shayari 15 کلام
بھیگی رتیں، ساون کی رم جھم، بادلوں کے سائے اور دل نشیں برسات کے لازوال اشعار
کچھ تو ترے موسم ہی مجھے راس کم آئے
اور کچھ میری مٹی میں بھی بہت بغاوت تھی
بات تو سچ ہے مگر میرا دل مانتا نہیں
کہ بارش کے موسم میں میرا گھر کیسے جلا
سب مٹا وقت کی بارش میں مگر باقی ہے
دل کی دیوار پہ لکھا ہوا اک نام ابھی
دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایا نہ تھا
اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا
اداس سی لگتی ہے محلے میں بارش کا پانی آج کل
سنا ہے بارش کی کشتی بنانے والے بڑے ہو گئے
بھیگی مٹی کی وہ مہک، بارش کا وہ شور
کھڑکی کے اس پار کھڑا تیرا ہی تصور
گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی ترے پازیب سے ٹکرائی ہوگی
یہ رِم جھم، یہ بارش، یہ آوارگی کا موسم
ہمارے بس میں ہوتا تو ترے پاس چلے آتے
عجب رشتہ ہے اس بارش کا میری اداسی سے
تُو برس پڑتا ہے، میں اندر سے بھیگ جاتا ہوں
ڈاکٹر بشیر بدر
Classical
