شاعری ہب / نظم / کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے (تاریخ ساز مرثیہ)

کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے (تاریخ ساز مرثیہ)

Kis Sher ki Aamad Hai ke Ran Kaanp Raha Hai Marsiya Dabeer

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے

رستم کا جگر، سام کا تن کانپ رہا ہے!

تلوار کی ہیبت سے زمیں لرزاں ہے سدا

خورشید فلک پر ہے کفن کانپ رہا ہے!

دبیرؔ شکوہِ لغت کا یہ دریا سدا بہے گا

جس سے شہادتِ کربلا کا سچا بیان جھلکتا ہے سدا!

Kis Sher Ki Aamad Hai Ke Ran Kaanp Raha Hai

Rustam Ka Jigar, Saam Ka Tan Kaanp Raha Hai!

Talwaar Ki Haibat Se Zameen Larzaan Hai Sada

Khursheed Falak Par Hai Kafan Kaanp Raha Hai!

Dabeer Shukoh-e-Lughat Ka Yeh Dariya Sada Bahe Ga

Jis Se Shahadat-e-Karbala Ka Saccha Bayaan Jhalakta Hai Sada!

نظم Urdu
Comment
مرزا سلامت علی دبیر
تعارفِ شاعر

مرزا سلامت علی دبیر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 29 اگست 1803 — 6 مارچ 1875 📍

مرزا سلامت علی دبیرؔ (29 اگست 1803ء – 6 مارچ 1875ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے جلیل القدر مرثیہ نگار، لغت و بلاغت کے بے مثل استاد اور شکوہِ الفاظ کے شہنشاہ تھے۔...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے