→ شاعری کا مرکزی صفحہ (Poetry Hub)

عید شاعری و تہنیتی کارڈز

۞

عید شاعری و تہنیتی کارڈز

Eid Mubarak Poetry & Greeting Cards 67 کلام

عید الفطر، عید الاضحیٰ، چاند رات، اور پردیس کے شاہکار کلام کا سب سے بڑا گنجینہ — اپنے نام کے ساتھ عید کارڈ بنائیں!

qataa 🌧️ اداس عید

قبرستان کی راہ پہ کھڑے ہیں آج عید کے دن

پھول لائے ہیں ان کے واسطے جو چھوڑ گئے

📜 لوک و روایتی کلام
←
شعر 🌧️ اداس عید

دل بجھا ہو تو عید کیسی ہے

روشنی بھی اندھیرا لگتی ہے

←
شعر 🌧️ اداس عید

مفلس کی عید بھی اک المیہ ہے زندگی میں

بچوں کی آرزو ہے اور جیب تہی ہے

←
شعر 🌧️ اداس عید

عید کا جوڑا پہن کر کسے دکھاؤں میں

جس کے لیے سنورتی تھی وہ تو چلا گیا

←
شعر 🌧️ اداس عید

اداس شامِ عید پر چراغ جلائے کون

جو جا چکے ہیں دنیا سے انہیں بلائے کون

←
شعر ✈️ پردیس کی عید

آنسو چھپا کر دوستوں کو عید کہتے ہیں

پردیسی دل کو جلا کر عید کہتے ہیں

📜 لوک و روایتی کلام
←
شعر ✈️ پردیس کی عید

وطن کی مٹی سے جب عید کی ہوا آئے

دل تڑپ اٹھے اور آنکھوں میں دعا آئے

📜 لوک و روایتی کلام
←
شعر ✈️ پردیس کی عید

دیارِ غیر میں کیسی خوشی اور کیسی عید

جب اپنے ہی نہ ہوں تو کیا ہے ہلالِ عید

📜 لوک و روایتی کلام
←
شعر ✈️ پردیس کی عید

ماں کے ہاتھ کی سویاں یاد آتی ہیں پردیس میں

بہنوں کی ہنسی اور دعائیں یاد آتی ہیں پردیس میں

📜 لوک و روایتی کلام
←
qataa ✈️ پردیس کی عید

پردیسیوں سے پوچھو کہ عید کیا ہوتی ہے

فون کی اسکرین پہ سجی امید کیا ہوتی ہے

📜 لوک و روایتی کلام
←
شعر ✈️ پردیس کی عید

کمرے میں بند چار دیواری ہے اور عید کا دن ہے

پردیس میں مسافر کا یہی نصیب بنتا ہے

📜 لوک و روایتی کلام
←
شعر ✈️ پردیس کی عید

پردیس کی تنہائی میں عید آئی ہے

اپنوں کی دوری کا پیام لائی ہے

←
شعر ✈️ پردیس کی عید

پردیس میں عید کا دن ہے اور آنکھیں نم ہیں

گھر کی یادوں کے تازیانے ہیں اور ہم ہیں

←
شعر ❤️ رومانوی عید

تیرے ماتھے کے جھومر کو سلام کہتا ہوں

آج کی عید کو ترے نام کہتا ہوں

📜 لوک و روایتی کلام
←
شعر ❤️ رومانوی عید

عید کا دن ہے گلے شکوے بھلا کر آ جاؤ

زندگی مختصر ہے مسکرا کر آ جاؤ

📜 لوک و روایتی کلام
←
شعر ❤️ رومانوی عید

تجھے دیکھوں تو عید ہو میری

ورنہ یہ عید بھی اداسی ہے

qataa ❤️ رومانوی عید

لوگ کہتے ہیں کہ چاند نظر آ گیا

فلک سے عید کا سندیسہ لا گیا

📜 لوک و روایتی کلام
←
شعر ❤️ رومانوی عید

عید کے روز بھی ہم مل نہ سکے افسوس ہے

ورنہ ہر روز ترے واسطے مرتے ہیں ہم

←