عید شاعری و تہنیتی کارڈز
عید شاعری و تہنیتی کارڈز
Eid Mubarak Poetry & Greeting Cards 67 کلام
عید الفطر، عید الاضحیٰ، چاند رات، اور پردیس کے شاہکار کلام کا سب سے بڑا گنجینہ — اپنے نام کے ساتھ عید کارڈ بنائیں!
قبرستان کی راہ پہ کھڑے ہیں آج عید کے دن
پھول لائے ہیں ان کے واسطے جو چھوڑ گئے
مفلس کی عید بھی اک المیہ ہے زندگی میں
بچوں کی آرزو ہے اور جیب تہی ہے
ساغر صدیقی
Classical
عید کا جوڑا پہن کر کسے دکھاؤں میں
جس کے لیے سنورتی تھی وہ تو چلا گیا
پروین شاکر
Modern
اداس شامِ عید پر چراغ جلائے کون
جو جا چکے ہیں دنیا سے انہیں بلائے کون
آنسو چھپا کر دوستوں کو عید کہتے ہیں
پردیسی دل کو جلا کر عید کہتے ہیں
وطن کی مٹی سے جب عید کی ہوا آئے
دل تڑپ اٹھے اور آنکھوں میں دعا آئے
دیارِ غیر میں کیسی خوشی اور کیسی عید
جب اپنے ہی نہ ہوں تو کیا ہے ہلالِ عید
ماں کے ہاتھ کی سویاں یاد آتی ہیں پردیس میں
بہنوں کی ہنسی اور دعائیں یاد آتی ہیں پردیس میں
پردیسیوں سے پوچھو کہ عید کیا ہوتی ہے
فون کی اسکرین پہ سجی امید کیا ہوتی ہے
کمرے میں بند چار دیواری ہے اور عید کا دن ہے
پردیس میں مسافر کا یہی نصیب بنتا ہے
پردیس کی تنہائی میں عید آئی ہے
اپنوں کی دوری کا پیام لائی ہے
پردیس میں عید کا دن ہے اور آنکھیں نم ہیں
گھر کی یادوں کے تازیانے ہیں اور ہم ہیں
تیرے ماتھے کے جھومر کو سلام کہتا ہوں
آج کی عید کو ترے نام کہتا ہوں
عید کا دن ہے گلے شکوے بھلا کر آ جاؤ
زندگی مختصر ہے مسکرا کر آ جاؤ
تجھے دیکھوں تو عید ہو میری
ورنہ یہ عید بھی اداسی ہے
نواب مرزا داغ دہلوی
Classical
لوگ کہتے ہیں کہ چاند نظر آ گیا
فلک سے عید کا سندیسہ لا گیا
