منور رانا
Munawwar Rana
Classical
26 نومبر 1952-14 جنوری 2024
رائے بریلی / لکھنؤ, بھارت
سید منور علی المعروف منورؔ رانا (26 نومبر 1952ء – 14 جنوری 2024ء) اردو غزل کی تاریخ میں 'ماں' کے موضوع پر سب سے عظیم، منفرد اور لازوال شاعر مانے جاتے ہیں۔ آپ رائے بریلی (اتر پردیش، بھارت) میں پیدا ہوئے اور زندگی کا بڑا حصہ کولکتہ اور لکھنؤ میں گزارا۔ منور رانا نے اردو غزل کے روایتی محبوب کے بجائے 'ماں' کے تقدس، شفقت، ممتا، قربانی اور گھر کے آنگن کو شاعری کا مرکز بنا کر اردو دنیا میں ایک نیا انقلاب برپا کیا۔ ان کا شاہکار شعر 'کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی / میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی' اور 'لبوں پہ اس کے کبھی بددعا نہیں ہوتی / بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی' کروڑوں دلوں کی آواز بن چکے ہیں۔ ان کے مجموعوں میں 'ماں'، 'غزل نما'، 'مہاجر نامہ'، 'گھر اکیلا ہو گیا'، 'بیاض' اور 'کلیاتِ منور رانا' شامل ہیں۔ آپ کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (2014ء) اور متعدد بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔
پردیس میں عید کا دن ہے اور آنکھیں نم ہیں
گھر کی یادوں کے تازیانے ہیں اور ہم ہیں
Pardes mein eid ka din hai aur aankhein nam hain
Ghar ki yaadon ke taaziyaane hain اور hum hain
بلندیوں کا بڑے سے بڑا پیمانہ چھوٹا ہے
کہ جب بھی دیکھتا ہوں ماں کا رتبہ اونچا ہے
Bulandiyon ka baday se bada paimana chhota hai
Ke jab bhi dekhta hoon maa ka rutba ooncha hai
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی
Kisi ko ghar mila hissay mein ya koi dukaan aayi
Main ghar mein sab se chhota tha mere hissay mein maa aayi
ہم نے تو زندگی کو ماں کی قدموں میں گزار دیا
جہاں جنت کا ہر ایک پھول مہکتا ہے
Hum Ne To Zindagi Ko Maa Ki Qadmon Mein Guzaar Diya
Jahan Jannat Ka Har Ek Phool Mehakta Hai
اس نے خاموشی سے اپنے دکھ چھپائے ہم سے
تا کہ بچوں کے چہروں پہ سدا مسکان رہے
Us Ne Khamoshi Se Apne Dukh Chhupaaye Hum Se
Ta Ke Bachon Ke Chehron Pe Sada Muskaan Rahe
مہاجر نامہ کی ہر سطر گواہی دیتی ہے
کہ وطن اور آنگن کا بچھڑنا کیا ہوتا ہے
Mahaajir Naama Ki Har Satr Gawaahi Deti Hai
Ke Watan Aur Aangan Ka Bichhadna Kya Hota Hai
کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی
Kisi Ko Ghar Mila Hisse Mein Ya Koi Dukaan Aayi
Main Ghar Mein Sab Se Chhota Tha Mere Hisse Mein Maa Aayi
بلندیوں پہ پہنچ کر دعا یہ مانگی ہے
کہ میرے پاؤں زمیں سے کبھی جدا نہ ہوں
Bulandiyon Pe Pahunch Kar Dua Yeh Maangi Hai
Ke Mere Paaon Zameen Se Kabhi Juda Na Hon
منورؔ ماں کے بغیر یہ گھر اک ویرانہ ہے
جہاں خوشیوں کا کوئی دیپ نہیں جلتا
Munawwar Maa Ke Baghair Yeh Ghar Ik Weeraana Hai
Jahan Khushiyon Ka Koi Deep Nahin Jalta
میری غربت کو دیکھ کر مسکرانے والے
میری ماں کی دعاؤں کا اثر تو دیکھ
Meri Ghurbat Ko Dekh Kar Muskurane Wale
Meri Maa Ki Duaaon Ka Asar To Dekh
لبوں پہ اس کے کبھی بددعا نہیں ہوتی
بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی
Labon Pe Us Ke Kabhi Bad-Dua Nahin Hoti
Bas Ek Maa Hai Jo Mujh Se Khafa Nahin Hoti
