ہم نے ہر دور میں دل کو ترسایا ہے
Hum Ne Har Daur mein Dil ko Tarsaaya Hai Miraji Ghazal
ہم نے ہر دور میں دل کو ترسایا ہے میراؔ جی
محبت کے بدلے میں فقط تنہائی پائی ہے سدا!
ہم نے تو اپنے خوابوں کو سجایا تھا ترے لیے
پر زمانے نے ویرانی دکھائی ہے سدا!
میراؔ جی خاموش رہ کر ہی جیتے رہیں گے ہم
جس نے دل کے ہر درد کو گہرائی دی ہے سدا!
Hum Ne Har Daur Mein Dil Ko Tarsaaya Hai Miraji
Mohabbat Ke Badle Mein Faqat Tanhaayi Paayi Hai Sada!
Hum Ne To Apne Khwabon Ko Sajaya Tha Tere Liye
Par Zamane Ne Weeraani Dikhayi Hai Sada!
غزل
Urdu
تعارفِ شاعر
میرا جی
ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...
