شاعری ہب / نظم / سمندر کا بلاوا (شاہکار علامتی نظم)

سمندر کا بلاوا (شاہکار علامتی نظم)

Samundar ka Bulawa Nazm Miraji

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

گہرے نیلے سمندر کی گود سے آتی ہے صدا

آ کہ میں تری روح کے پیاسے پن کو مٹا دوں!

ساحل کے پتھروں سے ٹکراتی ہوئی لہریں

جیسے باطن کے اندھیروں میں چھپی ہوئی کوئی پیاس ہوں!

ہم نے تو لہروں کے دوش پہ بہا دیا اپنا وجود

جہاں فنا ہی سب سے بڑی بقا ہے!

میراؔ جی باطنی آواز کا یہ سفر کبھی ختم نہیں ہوتا

جس نے دل کے ہر بھید کو عیاں کیا ہے!

Gehre Neele Samundar Ki God Se Aati Hai Sada

Aa Ke Main Teri Rooh Ke Pyaase-Pan Ko Mita Doon!

Saahil Ke Patharon Se Takraati Hui Lehrein

Jaise Baatin Ke Andheron Mein Chhupi Hui Koi Pyaas Hon!

Hum Ne To Lehron Ke Dosh Pe Baha Diya Apna Wujood

Jahan Fana Hi Sab Se Badi Baqa Hai!

نظم Urdu
Comment
میرا جی
تعارفِ شاعر

میرا جی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1912 — 3 نومبر 1949 📍 لاہور / دہلی / ممبئی، پاکستان / ہندوستان

ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے