شاعری ہب / نظم / مشرق و مغرب کے نغمے

مشرق و مغرب کے نغمے

Mashriq-o-Maghrib ke Naghme Miraji

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

مشرق کے تصوف اور مغرب کی فکر کا یہ حسیں سنگم

جس نے اردو شاعری کو دیا اک نیا جہان!

ہم نے تو عالمی ادب کے نغموں کو زبان دی

جس پر فخر کرتا ہے سارا ادبِ کارواں!

میراؔ جی تنقید و تحقیق کا یہ روشن مینار

جو ہر دور کے قلم کار کے لیے ہے تاباں!

Mashriq Ke Tasawwuf Aur Maghrib Ki Fikr Ka Yeh Haseen Sangam

Jis Ne Urdu Shaaeri Ko Diya Ik Naya Jahan!

Hum Ne To Aalami Adab Ke Naghmon Ko Zubaan Di

Jis Par Fakhr Karta Hai Saara Adab-e-Kaarwaan!

نظم Urdu
Comment
میرا جی
تعارفِ شاعر

میرا جی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1912 — 3 نومبر 1949 📍 لاہور / دہلی / ممبئی، پاکستان / ہندوستان

ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے