شاعری ہب / غزل / رات کے سناٹے میں بکھری ہے تیری یاد

رات کے سناٹے میں بکھری ہے تیری یاد

Raat ke Sannaate mein Bikhri Hai Teri Yaad Miraji

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

رات کے سناٹے میں بکھری ہے تیری یاد

جیسے ویران مندر میں بجتی ہو گھنٹی!

ہم نے تو پلکوں پہ سجائے ہیں آنسو سارے

اور دل کے تاروں کو چھیڑا ہے نیا نغمہ!

میراؔ جی عشق کا یہ روگ بڑا گہرا ہے

جس سے من کا ہر کونہ چمکتا ہے!

Raat Ke Sannaate Mein Bikhri Hai Teri Yaad

Jaise Weeraan Mandir Mein Bajti Ho Ghanti!

Hum Ne To Palkon Pe Sajaye Hain Aansoo Saare

Aur Dil Ke Taaron Ko Chheda Hai Naya Naghma!

غزل Urdu
Comment
میرا جی
تعارفِ شاعر

میرا جی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1912 — 3 نومبر 1949 📍 لاہور / دہلی / ممبئی، پاکستان / ہندوستان

ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے