دھوپ چھاؤں کا کھیل
Dhoop Chhaon ka Khel Nazm Miraji
دھوپ چھاؤں کا یہ کھیل ہی زندگی ہے
جہاں سکھ کے پیچھے دکھ کا سایہ چھپا ہے!
ہم نے تو دیکھا ہے انسانی ذہن کے اندھیروں کو
جہاں ہر خوف کے اندر کوئی نیا خواب بسا ہے!
میراؔ جی خود شناسی کا یہ دریا سدا بہتا رہے گا
جس نے وجود کے ہر راز کو کھول دیا ہے!
Dhoop Chhaaon Ka Yeh Khel Hi Zindagi Hai
Jahan Sukh Ke Peeche Dukh Ka Saaya Chhupa Hai!
Hum Ne To Dekha Hai Insaani Zehan Ke Andheron Ko
Jahan Har Khauf Ke Andar Koi Naya Khwab Basa Hai!
نظم
Urdu
تعارفِ شاعر
میرا جی
ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...
