شاعری ہب / نظم / دھوپ چھاؤں کا کھیل

دھوپ چھاؤں کا کھیل

Dhoop Chhaon ka Khel Nazm Miraji

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دھوپ چھاؤں کا یہ کھیل ہی زندگی ہے

جہاں سکھ کے پیچھے دکھ کا سایہ چھپا ہے!

ہم نے تو دیکھا ہے انسانی ذہن کے اندھیروں کو

جہاں ہر خوف کے اندر کوئی نیا خواب بسا ہے!

میراؔ جی خود شناسی کا یہ دریا سدا بہتا رہے گا

جس نے وجود کے ہر راز کو کھول دیا ہے!

Dhoop Chhaaon Ka Yeh Khel Hi Zindagi Hai

Jahan Sukh Ke Peeche Dukh Ka Saaya Chhupa Hai!

Hum Ne To Dekha Hai Insaani Zehan Ke Andheron Ko

Jahan Har Khauf Ke Andar Koi Naya Khwab Basa Hai!

نظم Urdu
Comment
میرا جی
تعارفِ شاعر

میرا جی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1912 — 3 نومبر 1949 📍 لاہور / دہلی / ممبئی، پاکستان / ہندوستان

ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے