شاعری ہب / نظم / رس کی انوکھی بوندیں

رس کی انوکھی بوندیں

Ras ki Anokhi Boondein Nazm Miraji

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

رس کی انوکھی بوندیں جب پیاسے ہونٹوں پہ گرتی ہیں

تو دل کے تاروں سے سچی راگنیاں پھوٹتی ہیں!

ہم نے تو اپنے جذبات کو علامت بنا دیا

جس سے روح کی گہرائیوں میں روشنیاں چمکتی ہیں!

میراؔ جی شاعری ہی باطن کا سچا اظہار ہے

جس سے انسانی زندگی کی ہر پرت کھلتی ہے!

Ras Ki Anokhi Boondein Jab Pyaase Honton Pe Girti Hain

To Dil Ke Taaron Se Sacchi Raagniyan Phootti Hain!

Hum Ne To Apne Jazbaat Ko Alaamat Bana Diya

Jis Se Rooh Ki Gehraaiyon Mein Roshniyan Chamakti Hain!

نظم Urdu
Comment
میرا جی
تعارفِ شاعر

میرا جی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1912 — 3 نومبر 1949 📍 لاہور / دہلی / ممبئی، پاکستان / ہندوستان

ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے