خاموشی سے گزر رہی ہے یہ عمر اپنی
Khamoshi se Guzar Rahi Hai Yeh Umar Apni Miraji
خاموشی سے گزر رہی ہے یہ عمر اپنی
جیسے ویران جنگل میں کوئی ندی بہتی ہو!
ہم نے تو اپنے جذبوں کو اندر ہی سمیٹ رکھا
کہ زمانے کے ستم سے کوئی بات نہ کہتی ہو!
میراؔ جی صوفیانہ فقر کا یہ راستہ بڑا کٹھن ہے
جس پر چل کر روح کو سکون کی تسلی رہتی ہو!
Khamoshi Se Guzar Rahi Hai Yeh Umr Apni
Jaise Weeraan Jangal Mein Koi Nadi Behti Ho!
Hum Ne To Apne Jazbon Ko Andar Hi Samet Rakha
Ke Zamane Ke Sitam Se Koi Baat Na Kehti Ho!
غزل
Urdu
تعارفِ شاعر
میرا جی
ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...
