شاعری ہب / غزل / خاموشی سے گزر رہی ہے یہ عمر اپنی

خاموشی سے گزر رہی ہے یہ عمر اپنی

Khamoshi se Guzar Rahi Hai Yeh Umar Apni Miraji

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

خاموشی سے گزر رہی ہے یہ عمر اپنی

جیسے ویران جنگل میں کوئی ندی بہتی ہو!

ہم نے تو اپنے جذبوں کو اندر ہی سمیٹ رکھا

کہ زمانے کے ستم سے کوئی بات نہ کہتی ہو!

میراؔ جی صوفیانہ فقر کا یہ راستہ بڑا کٹھن ہے

جس پر چل کر روح کو سکون کی تسلی رہتی ہو!

Khamoshi Se Guzar Rahi Hai Yeh Umr Apni

Jaise Weeraan Jangal Mein Koi Nadi Behti Ho!

Hum Ne To Apne Jazbon Ko Andar Hi Samet Rakha

Ke Zamane Ke Sitam Se Koi Baat Na Kehti Ho!

غزل Urdu
Comment
میرا جی
تعارفِ شاعر

میرا جی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 25 مئی 1912 — 3 نومبر 1949 📍 لاہور / دہلی / ممبئی، پاکستان / ہندوستان

ثناء اللہ ڈار المعروف میرا جیؔ (25 مئی 1912ء – 3 نومبر 1949ء) اردو ادب کی تاریخ کے سب سے پر اسرار، مجذوب صفت، باطنی کیفیات کے مصور اور اردو شاعری میں 'علامت نگاری' (Symbolism)...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے