بے وفائی و شکوہ شاعری
بے وفائی و شکوہ شاعری
Heartbreak & Betrayal Shayari 96 کلام
شکستہ خواب، عہد شکنی، یادوں کی کسک اور یار کے شکوے
اس شہرِ سنگ دل کو بھی بستے ہوئے دیکھیں
ہم اپنے دل کے ہر اک زخم کو ہنستے ہوئے دیکھیں
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
آئے ہیں سمجھانے والے درد کا مرہم لائے ہیں
ہم نے جن کو اپنا جانا وہ بھی ستم گر پائے ہیں
فیض احمد فیض
Modern
شوق کا رنگ بجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے
کیا مری بے حسی ہے یہ کیا ترے دن گزر گئے
شوق کا رنگ بجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے
کیا مری بے حسی ہے یہ کیا ترے دن گزر گئے
اپنے ہی سائے سے ڈر جانے کا موسم آیا
تیرے بچھڑنے سے مر جانے کا موسم آیا
کتنے عیش اڑاتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
جانے کیسے لوگ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
