شاعری ہب / غزل / کتنے عیش اڑاتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

کتنے عیش اڑاتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

Kitne Aish Udaate Honge Kitne Itrate Honge

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کتنے عیش اڑاتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

جانے کیسے لوگ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے

یارو اس کی یاد میں ہم نے کتنی راتیں کاٹیں

وہ تو اپنے خوابوں میں شمعیں جلاتے ہوں گے

ہم تو اس کے کوچے میں خاک بن کے بیٹھ گئے

لوگ اس کے رخساروں کے پھول سجاتے ہوں گے

عشق میں جو لٹ جاتے ہیں ان کو کیا معلوم

لوگ یہاں دل دے کر بھی محل بناتے ہوں گے

Kitne Aish Udaate Honge Kitne Itrate Honge

Jaane Kaise Log Honge Jo Us Ko Bhaate Honge

Yaaro Us Ki Yaad Mein Hum Ne Kitni Raatein Kaatein

Woh To Apne Khwabon Mein Shamein Jalaate Honge

Hum To Us Ke Kooche Mein Khaak Ban Ke Baith Gaye

Log Us Ke Rukhsaaron Ke Phool Sajaate Honge

غزل
Comment
جون ایلیا
تعارفِ شاعر

جون ایلیا

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 14 دسمبر 1931 — 8 نومبر 2002 📍

سید جون اصغر المعروف جون ایلیا (14 دسمبر 1931ء – 8 نومبر 2002ء) اردو ادب کے سب سے منفرد، بے باک، غیر روایتی اور فلسفی شاعر، نثر نگار اور مفکر تھے۔ آپ امروہہ (بھارت) میں...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے