شاعری ہب / غزل / وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے

وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے

Woh Jhoot Bol Raha Tha Bade Saliqe se

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے

میں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

اسے گلہ تھا کہ میں نے اسے پکارا نہیں

وہ سن رہا تھا مگر التجا نہ کرتا تو کیا کرتا

تمام شہر ہی اس کے فریب میں تھا مگن

میں سچ کو دیکھ کے بھی خامشی نہ کرتا تو کیا کرتا

محسنؔ تباہ ہو گیا دل اس کی چاہت میں

میں اپنے آپ کو اس پر فدا نہ کرتا تو کیا کرتا

Woh Jhoot Bol Raha Tha Bade Saliqe Se

Main Aetbaar Na Karta To Aur Kya Karta

Use Gila Tha Ke Main Ne Use Pukara Nahin

Woh Sun Raha Tha Magar Iltija Na Karta To Kya Karta

Tamaam Shahr Hi Us Ke Fareb Mein Tha Magan

Main Sach Ko Dekh Ke Bhi Khaamshi Na Karta To Kya Karta

غزل
Comment
محسن نقوی
تعارفِ شاعر

محسن نقوی

🏛️ عہدِ جدید ⏳ 5 مئی 1947 — 15 جنوری 1996 📍 ڈیرہ غازی خان / لاہور، پاکستان

سید غلام عباس المعروف محسن نقوی (5 مئی 1947ء – 15 جنوری 1996ء) پاکستان کے صفِ اول کے عظیم، بے حد مقبول اور دلوں کو چھو لینے والے قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ ڈیرہ غازی...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے