شاعری ہب / شعر / دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایا نہ تھا

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایا نہ تھا

Door Tak Chaaye The Baadal aur Kahin Saaya na Tha

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایا نہ تھا

اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

Door tak chaaye the baadal aur kahin saaya na tha

Is tarah barsaat ka mausam kabhi aaya na tha

شعر
Comment
ن
تعارفِ شاعر

نامعلوم / روایتی کلام

🏛️ روایتی و کلاسیکی

وہ لازوال اور مقبولِ عام نعتیں اور سلام جن کے تخلیق کار تاریخ میں نامعلوم ہیں یا جو روایتی ثنا خوانی کا حصہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے