بے وفائی و شکوہ شاعری
بے وفائی و شکوہ شاعری
Heartbreak & Betrayal Shayari 96 کلام
شکستہ خواب، عہد شکنی، یادوں کی کسک اور یار کے شکوے
کیوں سنے عرضِ مضطرب اے دل تری ستم گر بزم میں
جہاں ہر نگاہ نے سکھایا ہے طریقہ جفا کا!
حکیم مومن خان مومن
Classical
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہی یعنی وعدہ نباہ کا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو!
حکیم مومن خان مومن
Classical
رویا کریں گے آپ بھی پہروں اسی طرح
اٹکا کہیں جو آپ کا دل بھی مری طرح!
حکیم مومن خان مومن
Classical
شبِ ہجر کی یہ اداسیاں کبھی کم نہ ہوں گی
جب تک ترے قدموں پہ نہ مٹ جائیں ہم!
نوشی گیلانی
Contemporary
محبت اب نہیں ہوگی یہ ایسا عہد ہے میرا
کہ اب ہر بار دل کی موت پر ماتم نہیں ہوگا!
نوشی گیلانی
Contemporary
غمِ عاشقی سے کہہ دو رہِ زندگی بدل دے
مجھے بار بار مٹایا ہے ترے سنگِ در کے سجدوں نے
شکیل بدایونی
Modern
مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
میں ہوں دردِ عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے
شکیل بدایونی
Modern
مرے ہم نفس مرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
میں ہوں دردِ عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دعا نہ دے!
شکیل بدایونی
Modern
غمِ عاشقی سے کہہ دو رہِ زندگی بدل دے
مجھے بار بار مٹایا ہے ترے سنگِ در کے سجدوں نے!
شکیل بدایونی
Modern
رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا
وہ کیوں گیا ہے یہ بھی بتا کر نہیں گیا
مجروح سلطان پوری
Classical
