شاعری ہب / غزل / شبِ ہجر کی یہ اداسیاں

شبِ ہجر کی یہ اداسیاں

Shab-e-Hijr ki Yeh Udaasiyan Ghazal Noshi

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

شبِ ہجر کی یہ اداسیاں کبھی کم نہ ہوں گی

جب تک ترے قدموں پہ نہ مٹ جائیں ہم!

ہم نے تو مانگی تھی پیار کی اک جھلک فقط

پر غم کا سمندر ہی دے گئے ہو تم!

نوشیؔ اس دلِ بے قرار کا کیا بنے گا اب

جس کو سدا کے لیے چھوڑ گئے ہو تم!

Shab-e-Hijr Ki Yeh Udaasiyan Kabhi Kam Na Hon Gi

Jadon Tak Tere Qadmon Pe Na Mit Jayein Hum!

Hum Ne To Maangi Thi Pyaar Ki Ik Jhalak Faqat

Par Gham Ka Samundar Hi De Gaye Ho Tum!

غزل Urdu
Comment
نوشی گیلانی
تعارفِ شاعر

نوشی گیلانی

🏛️ معاصر دور ⏳ 14 مارچ 1964 — -- 📍

نشاط گیلانی المعروف نوشیؔ گیلانی (پیدائش: 14 مارچ 1964ء، بہاولپور) پروین شاکر کے بعد اردو ادب کی سب سے مقبول، نازک خیال، حساس اور دردمند نسائی آواز ہیں۔ آپ نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے اردو...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے