مولانا الطاف حسین حالی
Altaf Hussain Hali
Classical
1837-31 دسمبر 1914
پانی پت / دہلی / لاہور, ہندوستان
خواجہ الطاف حسین حالیؔ پانی پتی (1837ء – 31 دسمبر 1914ء) اردو ادب کے سب سے عظیم قومی مصلح، پہلے باقاعدہ تنقید نگار، سوانح نگار اور جدید اردو نظم کے سرخیل بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ پانی پت میں پیدا ہوئے اور دہلی میں مرزا اسد اللہ خان غالبؔ کے شاگردِ خاص اور نواب مصطفیٰ خان شیفتہؔ کے رفیق رہے۔ بعد ازاں سر سید احمد خان کی تحریکِ علی گڑھ کے سب سے بڑے ترجمان بنے۔ 1879ء میں سر سید کی فرمائش پر انہوں نے شاہکار طویل نظم 'مسدسِ حالی' (مد و جزرِ اسلام) تحریر کی جس نے سوئی ہوئی مسلم قوم کو بیدار کیا (سر سید نے فرمایا تھا: 'اگر قیامت کے دن خدا مجھ سے پوچھے گا کہ دنیا سے کیا لائے ہو تو میں کہوں گا کہ حالی سے مسدس لکھوا لایا ہوں')۔ ان کی کتاب 'مقدمۂ شعر و شاعری' (1893ء) اردو تنقید کا پہلا اور سب سے بڑا منشور مانی جاتی ہے۔ ان کے دیگر شاہکاروں میں 'یادگارِ غالب'، 'حیاتِ سعدی'، 'حیاتِ جاوید'، 'مناجاتِ بیوہ' اور 'چپ کی داد' شامل ہیں۔ برطانوی حکومت نے 1904ء میں انہیں 'شمس العلماء' کا خطاب دیا۔ آپ کا مزار پانی پت میں واقع ہے۔
اے ماؤں بہنوں بیٹیوں دنیا کی زینت تم سے ہے
قوموں کی عزت تم سے ہے ملکوں کی دولت تم سے ہے
Aye Maaon Behanon Betiyon Duniya Ki Zeenat Tum Se Hai
Qaumon Ki Izzat Tum Se Hai Mulkon Ki Daulat Tum Se Hai
فرشتے سے بہتر ہے انساں بننا
مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
Farishte Se Behtar Hai Insaan Banna
Magar Is Mein Lagti Hai Mehnat Zyaada
تازہ خرد کا آئینہ صاف کرو تو کچھ بنے
دل کی اندھیری رات میں شمع جلاؤ تو کچھ بنے
Taaza Khirad Ka Aayina Saaf Karo To Kuch Bane
Dil Ki Andheri Raat Mein Shama Jalaao To Kuch Bane
حالیؔ سخن میں شیفتہ سے لو لگائے جا
اس راہ پر تو شمعِ حقیقت جلائے جا
Hali Sukhan Mein Shefta Se Lau Lagaye Jaa
Us Raah Par Tu Shama-e-Haqeeqat Jalaye Jaa
تڑپتے ہیں دل سے دعا مانگتے ہیں
خدایا قوم کا بیڑا پار کر دے
Tadapte Hain Dil Se Dua Maangte Hain
Khudaya Qaum Ka Beda Paar Kar De
اے ماؤں، بہنو، بیٹیو! دنیا کی زینت تم سے ہے
ملکوں کی بستی ہو تمہی، قوموں کی عزت تم سے ہے
Aye Maaon, Behno, Betiyo! Duniya Ki Zeenat Tum Se Hai
Mulkon Ki Basti Ho Tumhi, Qaumon Ki Izzat Tum Se Hai
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے
اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے
Pasti Ka Koi Hadd Se Guzarna Dekhe
Islam Ka Gir Kar Na Ubharna Dekhe
اک روز مرنا تھا سو مر گئے
غالبؔ نامور کے گزرنے کا غم ہے
Ik Roz Marna Tha So Mar Gaye
Ghalib Naamwar Ke Guzarne Ka Gham Hai
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
Woh Nabiyon Mein Rehmat Laqab Paane Wala
Muraadein Ghareebon Ki Bar Laane Wala
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا
Utar Kar Hira Se Sooye Qaum Aaya
Aur Ik Nuskha-e-Keemiya Saath Laaya
