شاعری ہب / غزل / تازہ خرد کا آئینہ صاف کرو تو کچھ بنے

تازہ خرد کا آئینہ صاف کرو تو کچھ بنے

Taaza Khirad ka Aayina Hali Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

تازہ خرد کا آئینہ صاف کرو تو کچھ بنے

دل کی اندھیری رات میں شمع جلاؤ تو کچھ بنے!

سست روی کی عادتیں قوم کو لے ڈوبیں گی

محنت و عزم کا پرچم لہراؤ تو کچھ بنے!

ہم نے تو دیکھا ہے زمانے کو بدلتے ہوئے بھی

اپنی تقدیر کو خود ہی جگاؤ تو کچھ بنے!

حالیؔ اس بزم میں سچ کہنا ہی سب سے بڑا ہنر

سچائی کا نغمہ سناؤ تو کچھ بنے!

Taaza Khirad Ka Aayina Saaf Karo To Kuch Bane

Dil Ki Andheri Raat Mein Shama Jalaao To Kuch Bane!

Sust-Rawi Ki Aadatein Qaum Ko Le Doobein Gi

Mehnat-o-Azm Ka Parcham Lehraao To Kuch Bane!

غزل Urdu
Comment
مولانا الطاف حسین حالی
تعارفِ شاعر

مولانا الطاف حسین حالی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1837 — 31 دسمبر 1914 📍 پانی پت / دہلی / لاہور، ہندوستان

خواجہ الطاف حسین حالیؔ پانی پتی (1837ء – 31 دسمبر 1914ء) اردو ادب کے سب سے عظیم قومی مصلح، پہلے باقاعدہ تنقید نگار، سوانح نگار اور جدید اردو نظم کے سرخیل بانیوں میں شمار ہوتے...

✍️ جواب دیں / تبصرہ فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے۔