شاعری ہب / غزل / قوم کے دکھ کو سینے میں چھپائے ہوئے ہم

قوم کے دکھ کو سینے میں چھپائے ہوئے ہم

Har Ik Baat pe Kehte Ho Tum ke Tu Kya Hai Hali Ghazal

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

قوم کے دکھ کو سینے میں چھپائے ہوئے ہم

ہر موڑ پر سچائی کا پرچم اٹھائے ہوئے ہم!

وہ جو کہتے تھے مسدس فقط اک نوحہ ہے

اب اسی سے بیداری کے دیے جلائے ہوئے ہم!

حالیؔ اصلاحِ معاشرہ کا یہ سفر جاری رہے گا

جس کے لیے اپنی ساری عمر لٹائے ہوئے ہم!

Qaum Ke Dukh Ko Seene Mein Chhupaaye Hue Hum

Har Mod Par Sacchayi Ka Parcham Uthaaye Hue Hum!

Woh Jo Kehte The Musaddas Faqat Ik Nooha Hai

Ab Usi Se Bedaari Ke Diye Jalaaye Hue Hum!

غزل Urdu
Comment
مولانا الطاف حسین حالی
تعارفِ شاعر

مولانا الطاف حسین حالی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1837 — 31 دسمبر 1914 📍 پانی پت / دہلی / لاہور، ہندوستان

خواجہ الطاف حسین حالیؔ پانی پتی (1837ء – 31 دسمبر 1914ء) اردو ادب کے سب سے عظیم قومی مصلح، پہلے باقاعدہ تنقید نگار، سوانح نگار اور جدید اردو نظم کے سرخیل بانیوں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے