شاعری ہب / غزل / یہ فسانۂ غمِ دل ہے

یہ فسانۂ غمِ دل ہے

Yeh Fasaana-e-Gham-e-Dil Hai Ghazal Hali

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ فسانۂ غمِ دل ہے جو ہم سناتے ہیں

اور بیتے ہوئے دنوں کے خواب جگاتے ہیں!

ہم نے تو چاہا تھا بیداری کا سویرا لانا

پر لوگ اندھیروں میں ہی سو جاتے ہیں!

حالیؔ امید کی کرن کبھی نہ ٹوٹے گی

جب تک چراغِ فکر ہم جلاتے ہیں!

Yeh Fasaana-e-Gham-e-Dil Hai Jo Hum Sunaate Hain

Aur Beete Hue Dinon Ke Khwab Jagaate Hain!

Hum Ne To Chaaha Tha Bedaari Ka Sawera Laana

Par Lok Andheron Mein Hi So Jaate Hain!

غزل Urdu
Comment
مولانا الطاف حسین حالی
تعارفِ شاعر

مولانا الطاف حسین حالی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1837 — 31 دسمبر 1914 📍 پانی پت / دہلی / لاہور، ہندوستان

خواجہ الطاف حسین حالیؔ پانی پتی (1837ء – 31 دسمبر 1914ء) اردو ادب کے سب سے عظیم قومی مصلح، پہلے باقاعدہ تنقید نگار، سوانح نگار اور جدید اردو نظم کے سرخیل بانیوں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے