شاعری ہب / نظم / مسدسِ حالی (مد و جزرِ اسلام - شاہکار قومی نظم)

مسدسِ حالی (مد و جزرِ اسلام - شاہکار قومی نظم)

Musaddas-e-Hali Madd-o-Jazr-e-Islam Altaf Hussain Hali

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

اسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھے!

وہ دورِ جہالت میں تھا ڈوبا سارا عرب

نہ اخلاق کا پرچم نہ کوئی ادب!

اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا

اور اک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا!

مسِ خام کو جس نے کندن بنایا

کھرا اور کھوٹا الگ کر دکھایا!

حالیؔ اٹھو کہ وقتِ بیداری آ گیا ہے

سوئی ہوئی قوم پر نور چھا گیا ہے!

Pasti Ka Koi Hadd Se Guzarna Dekhe

Islam Ka Gir Kar Na Ubharna Dekhe!

Woh Daur-e-Jahalat Mein Tha Dooba Saara Arab

Na Akhlaaq Ka Parcham Na Koi Adab!

Utar Kar Hira Se Sooye Qaum Aaya

Aur Ik Nuskha-e-Keemiya Saath Laaya!

Mis-e-Khaam Ko Jis Ne Kundan Banaya

Khara Aur Khota Alag Kar Dikhaya!

نظم Urdu
Comment
مولانا الطاف حسین حالی
تعارفِ شاعر

مولانا الطاف حسین حالی

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 1837 — 31 دسمبر 1914 📍 پانی پت / دہلی / لاہور، ہندوستان

خواجہ الطاف حسین حالیؔ پانی پتی (1837ء – 31 دسمبر 1914ء) اردو ادب کے سب سے عظیم قومی مصلح، پہلے باقاعدہ تنقید نگار، سوانح نگار اور جدید اردو نظم کے سرخیل بانیوں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے