شاعری ہب / غزل / یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں

یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں

Yeh Phool Mujhe Koi Wiraasat mein Mile Hain Badr

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں

تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا!

ہم نے تو سہے ہیں ہر اک طوفان کے جھکڑ

پر تم نے مرا حوصلۂ سنگِ در نہیں دیکھا!

بشیرؔ عظمتِ فن کا یہ جلوہ سدا رہے گا

جس نے زمانے کا کوئی جھوٹا سحر نہیں دیکھا!

Yeh Phool Mujhe Koi Wiraasat Mein Mile Hain

Tum Ne Mera Kaanton Bhara Bistar Nahin Dekha!

Hum Ne To Sahe Hain Har Ik Toofaan Ke Jhakkar

Par Tum Ne Mera Hausla-e-Sang-e-Dar Nahin Dekha!

Bashir Azmat-e-Fan Ka Yeh Jalwa Sada Rahe Ga

Jis Ne Zamane Ka Koi Jhootha Sahar Nahin Dekha!

غزل Urdu
Comment
ڈاکٹر بشیر بدر
تعارفِ شاعر

ڈاکٹر بشیر بدر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 15 فروری 1935 📍 کانپور / ایودھیا / بھوپال، بھارت

سید محمد بشیر المعروف ڈاکٹر بشیرؔ بدر (پیدائش: 15 فروری 1935ء، کانپور / ایودھیا، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے سب سے رومانی، سحر انگیز اور دلوں کو چھو لینے والے شاعراں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے