شاعری ہب / غزل / کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

Kuchh to Majbooriyan Rahi Hongi Ghazal Badr

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں ہی کوئی بے وفا نہیں ہوتا!

ہم نے تو اپنے دل کو صبر سکھایا ہے

کہ محبت کا رشتہ کبھی فنا نہیں ہوتا!

بشیرؔ شائستگی و کرم کا یہ عالم رہے گا

جس سے دلوں کا بھرم کبھی جدا نہیں ہوتا!

Kuchh To Majbooriyan Rahi Hongi

Yoon Hi Koi Be-Wafa Nahin Hota!

Hum Ne To Apne Dil Ko Sabr Sikhaya Hai

Ke Mohabbat Ka Rishta Kabhi Fana Nahin Hota!

Bashir Shaayastagi-o-Karam Ka Yeh Aalam Rahe Ga

Jis Se Dilon Ka Bharam Kabhi Juda Nahin Hota!

غزل Urdu
Comment
ڈاکٹر بشیر بدر
تعارفِ شاعر

ڈاکٹر بشیر بدر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 15 فروری 1935 📍 کانپور / ایودھیا / بھوپال، بھارت

سید محمد بشیر المعروف ڈاکٹر بشیرؔ بدر (پیدائش: 15 فروری 1935ء، کانپور / ایودھیا، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے سب سے رومانی، سحر انگیز اور دلوں کو چھو لینے والے شاعراں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے