شاعری ہب / غزل / دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

Dushmani Jam Kar Karo Lekin Yeh Gunjaayish Rahe Badr

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں!

ہم نے تو رکھی ہے رشتوں میں ہمیشہ سادگی

تا کہ ہم ماضی کے چہروں سے کبھی رنجیدہ نہ ہوں!

ہم نے سکھایا ہے محبت کا وقار و بانکپن

تا کہ جذبوں کی چمک سے لوگ نا دیدہ نہ ہوں!

بشیرؔ استادِ سخن کا یہ قرینہ سدا رہے گا

جس سے انسانی تعلق کبھی پیچیدہ نہ ہوں!

Dushmani Jam Kar Karo Lekin Yeh Gunjaayish Rahe

Jab Kabhi Hum Dost Ho Jaayein To Sharmsaar Na Hon!

Hum Ne To Rakhi Hai Rishton Mein Hamesha Saadgi

Ta Ke Hum Maazi Ke Chehron Se Kabhi Ranjida Na Hon!

Hum Ne Sikhaya Hai Mohabbat Ka Waqaar-o-Baankpan

Ta Ke Jazbon Ki Chamak Se Log Na-Deeda Na Hon!

Bashir Ustaad-e-Sukhan Ka Yeh Qareena Sada Rahe Ga

Jis Se Insaani Ta'alluq Kabhi Pecheeda Na Hon!

غزل Urdu
Comment
ڈاکٹر بشیر بدر
تعارفِ شاعر

ڈاکٹر بشیر بدر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 15 فروری 1935 📍 کانپور / ایودھیا / بھوپال، بھارت

سید محمد بشیر المعروف ڈاکٹر بشیرؔ بدر (پیدائش: 15 فروری 1935ء، کانپور / ایودھیا، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے سب سے رومانی، سحر انگیز اور دلوں کو چھو لینے والے شاعراں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے