شاعری ہب / غزل / آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

Aankhon mein Raha Dil mein Utar Kar Nahin Dekha Badr

فونٹ سائز:
100%
پس منظر:

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا!

بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے

اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا!

ہم نے تو گزاری ہے محبت میں جوانی

پر تم نے مرا دردِ دروں بھر نہیں دیکھا!

بشیرؔ شاعری کا یہ بانکپن سدا دمکے گا

جس کا چمنِ اردو میں کوئی جوہر نہیں دیکھا!

Aankhon Mein Raha Dil Mein Utar Kar Nahin Dekha

Kashti Ke Musaafir Ne Samundar Nahin Dekha!

Be-Waqt Agar Jaaunga Sab Chaunk Padenge

Ik Umr Hui Din Mein Kabhi Ghar Nahin Dekha!

Hum Ne To Guzaari Hai Mohabbat Mein Jawaani

Par Tum Ne Mera Dard-e-Daroon Bhar Nahin Dekha!

Bashir Shaaeri Ka Yeh Baankpan Sada Damke Ga

Jis Ka Chaman-e-Urdu Mein Koi Gauhar Nahin Dekha!

غزل Urdu
Comment
ڈاکٹر بشیر بدر
تعارفِ شاعر

ڈاکٹر بشیر بدر

🏛️ کلاسیکی دور ⏳ 15 فروری 1935 📍 کانپور / ایودھیا / بھوپال، بھارت

سید محمد بشیر المعروف ڈاکٹر بشیرؔ بدر (پیدائش: 15 فروری 1935ء، کانپور / ایودھیا، اتر پردیش) معاصر اردو غزل کے سب سے رومانی، سحر انگیز اور دلوں کو چھو لینے والے شاعراں میں شمار ہوتے...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے